ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 488 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 488

کرو۔روزانہ تین روپے تم کو مل جایا کریں گے۔فرمایا۔جب سے کہ مسلمانوں نے یہ وظیفے شروع کیے ہیں تب ہی سے ان کا بیڑا غرق ہونے لگا ہے۔اذان پر کیوں ناراض ہوتے ہیں؟ فرمایا۔تعجب ہے کہ ہندو اور سکھ آپس میں ایک دوسرے کو گندی گالیاں بلند آواز سے دیتے ہوئے سنتے ہیں اور برا نہیں مناتے لیکن جب اذان سنتے ہیں تو سخت ناراض ہوتے ہیں۔حالانکہ اذان میں خدا تعالیٰ کی تعریف اور اچھی باتیں ہیں اور کیا ہی پیارے کلمات ہیں۔(المائدۃ:۵۹)۔شہید فرمایا۔شہید پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) مطعون۔جو طاعون سے مرے۔(۲)مبطون۔جو دستوں کی بیماری سے مرے۔(۳) جس پر دیوار گرے اور وہ مرجائے۔(۴) جو پانی میں ڈوب کر مرجائے۔(۵) شہید فی سبیل اللہ۔جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑکر مرجائے۔شہادت کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایمان بھی ہو۔ورنہ ابوجہل بھی تلوار سے مارا گیا تھا۔قیامت میں سایہ کس کو ملے گا فرمایا۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کے سوائے کسی چیز کا سایہ نہ ہوگا اور وہ سایہ سات شخصوں کو ملے گا۔(۱) امام عادل۔منصف بادشاہ (۲)جو اپنی جوانی میں خدا تعالیٰ کی عبادت میں لگا رہا ہے۔(۳)وہ آدمی جس کا دل مسجد میں ہی لگا رہتا ہے۔ہر وقت اس خیال اور انتظار میں ہے کہ کب نماز کا وقت ہوتا ہے کہ مسجد کو جائے۔(۴)وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے دوستی کرتے ہیں۔(۵) وہ شخص جسے کوئی بڑے رتبہ والی خوبصورت عورت بلائے مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ڈر کے سبب نہ جائے۔(۶)وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس طرح خرچ کرے کہ ایک ہاتھ سے دے تو دوسرے کو خبر نہ ہو۔(۷)وہ جو اللہ تعالیٰ کی شاہنشاہی کے خوف سے ڈر کر علیحدگی میں بیٹھ کر روئے۔بدعت فرمایا۔باوجود حاجت کے جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں نہ ہوا ہو اس کو بدعت کہتے ہیں۔