ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 480 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 480

اپنے مردے آپ نہلاؤ حضرت امیرالمومنین نے فرمایا کہ مسلمانوں میںہمدردی یہاں تک کم ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے مردوں کو آپ نہلانا بھی چھوڑ دیا ہے۔جب کوئی مرتا ہے تو اس کی جائیداد کو مقفل کرنے کی فکر میںلگ جاتے ہیں اور اس کے نہلانے دھلانے کا کام کسی ملّاں کے سپرد آٹھ دس آنہ کے پیسے دے کر کر دیتے ہیں، اسلام کا یہ دستور نہ تھا۔حضرت نبی کریم کو بھی اہل بیت حضرت علیؓ فضل، اسامہ نے غسل دیا۔(میں چاہتا ہوں کہ کم از کم احمدی احباب اس سنت کو جاری رکھیں اور وہ اپنے مردوں کو خود غسل دیا کریں۔(تشحیذ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیوی کو ماں کہنا ایک شخص کا خط پیش ہوا کہ میرا ایک دوست اپنی بیوی کو حالت غصہ میں ماں کہہ بیٹھا ہے اب کیا کرے۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔فرمایا۔اکٹھا نہ کھلا سکتا ہو تو چند روز کے وقفہ میں کھلاتا رہے۔مگر جب تک کہ ساٹھ مسکین کھا نہ لیں تب تک بیوی کے پاس نہ جائے۔زکوٰۃ فرمایا۔نقدی کی زکوٰۃ ہے۔مبلغ ایک سو روپیہ پر اور ساڑھے سات تولہ سونا پر ۲ماشہ۔زیور پر زکوٰۃ کے متعلق اختلاف ہے۔کوئی صحیح بات جس پر اعتراض نہ ہوسکے مجھے نہیں ملی۔ابوداؤد میں حدیث ہے مگر اس پر بھی جرح ہے۔بعض نے کہا ہے زیور پر زکوٰۃ نہیں۔بعض نے کہا مستعمل پر نہیں۔میرے گھر میں اور حضرت صاحب کے گھر میں زیور کی زکوٰۃ سونے چاندی کے حساب سے ادا کی جاتی ہے۔مویشی کی زکوٰۃ۔۴۰ بکریوںمیں ایک۔سو بکریوں تک۔۳۰ گائے میں ایک سال کی ایک بچھیا۔