ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 479
آج کل کی تہذیب غلط ہے آج کل مہذب جو جنٹلمین کہلاتے ہیں جب اپنی کسی کمزوری کو چھپانا چاہتے ہیں تو عذر کردیتے ہیں یہ پرائیویٹ بات ہے۔مگر یہ طرز اسلام کا نہیں مومن جو کچھ کرتا ہے اپنے مولیٰ کی اطاعت میں کرتا ہے اس لیے وہ بزدل نہیں ہوتا۔قرآن کریم میں کئی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خانگی امور کا ذکر ہے۔کیونکہ آپ کی ذات ستو دہ صفات تمام جہانوں کے لیے اسوہ حسنہ تھی۔آپ کا تھوکنا، آپ کا پیشاپ کرنا، آپ کا اٹھنا بیٹھنا، آپ کا اپنی بیویوں سے طرزِ معاشرت سب ہی کچھ محفوظ ہے۔نبی کریم کا تعلق بارگاہِ ایزدی سے عرب لوگوں میں یا تو لڑائی نیزوں وغیرہ کا ذکر ہوتا رہتا ہے یا صحرائے بے آب و گیاہ یا شراب شہوت کے محلوں کا، اونٹنیوں کا، کھجوروں کا۔مگر اللہ تعالیٰ کے صفات، افعال، نعم، نقم کا کوئی ذکر نہیں تھا۔قرآن مجید کا ایک ایک رکوع غور سے دیکھو، اللہ کی عظمت اور جلال سے خالی نہیں۔جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنا بڑا تعلق بارگاہ ایزدی سے تھا۔صحابہ کرام کی خصوصیات جیسے کوئی نبی بہرہ نہیں ہوا۔ایسا ہی کوئی صحابی بہرہ نہیں تھا تاکہ کلام نبوی سے محروم نہ رہے۔پھر اتنی بڑی قوم میں روایت کے اعتبار سے کسی کا جھوٹ ثابت نہیں ہوگا۔سبحان اللہ نبی کا صدق اس قدر پر تو انداز تھا کہ کسی روایت کے صدق کے لیے صرف اسی قدر ثبوت کافی ہے کہ ایک صحابی کہتا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔منکر فضیلت ابوبکرؓ منکر قرآن ہے؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو اولوالفضل (صاحب فضیلت) فرمایا ہے۔(پڑھو یہ آیت (النور:۲۳) ) بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ فضل سے مراد مال ہے مگر ان کی تردید کے لیے ساتھ ہی فرمایا۔اگر فضل سے مراد مال ہوتا تو سعۃ کو علیحدہ نہ فرماتا۔