ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 478
(المؤمنون:۳)۔(۲) اعراض عن اللغو۔(المؤمنون:۴)۔(۳)زکوٰۃ۔اپنے مال، قویٰ کا حصہ اللہ کے نام پر دینا۔ (المؤمنون:۵)۔(۴)حفظ فروج۔اپنے سوراخوں کی حفاظت۔ (المؤمنون:۶)۔(۵) امانت و عہد کا لحاظ کرتے رہنا۔ (المؤمنون:۹)۔(۶) محافظت صلوٰۃ۔(المؤمنون:۱۰) وعدہ و وعید دونوں ٹل سکتے ہیں؟ سورۂ مومنون میں جب ہم یہ آیات پڑھتے ہیں۔ (المؤمنون:۹۴تا ۹۶) تو یہ دو باتیں کھلتی ہیں۔ایک تو یہ کہ اللہ کی ذات کس قدر غنا میں پڑی ہوئی ہے کہ وہ انبیاء جن کے مبارک وجود کی خاطر بعض اوقات تمام ملک کو بھی غرق کردیتا ہے اس کے حضور گڑگڑانے کے محتاج ہیں اور دعا کی احتیاج سے خالی نہیں۔اب دیکھئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر عذاب آتا ہے مگر دوسری جانب آپ ہی کے منہ سے کہلواتا ہے۔(المؤمنون:۹۵) یعنی اے میرے ربّ مجھے ظالموں کی قوم میں نہ گردانیو۔اس آفت میں مبتلا نہ ہوجاؤں۔دوم یہ کہ وعدہ ہو یا وعید ہو وہ ضرور ٹل سکتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔(المؤمنون:۹۶) یعنی ہم جو ان کو وعدہ دیتے ہیں اس کے دکھانے پر قادر ہیں۔یہ نہیں فرمایا کہ ضرور وہ وعدہ اسی رنگ میںپورا کریں گے بلکہ یہ فرمایا کہ قادر ہیں چاہیں تو اسے بدل کر کسی اور رنگ میں پورا کردیں۔یہ نکتہ معرفت اگر خوب سمجھ لیا جائے تو پھر بروز محمدؐ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر کوئی اعتراض نہیں رہتا۔