ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 477
(۲) خدا تعالیٰ کے الہامات کی عظیم الشان تائید ہوتی ہے۔(۳)رحمانی الہام کے ساتھ اس کی سچائی کا کوئی نشان بھی ہوتا ہے۔(۴) رحمانی الہامات کے ساتھ فرشتوں کی حفاظت ہوتی ہے اور وہ فرشتے رسولوں کو نظر بھی آتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں سورۃ آئی تو ستّر ہزار فرشتے اس کے ساتھ تھے۔مگر یہ حالت بڑے عظیم الشان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے۔یارسول اللہ فرمایا۔یارسول اللہ کرکے پکارنا جائز نہیں ہے۔شاعر حالت شعر ، اور حالت وجد میں کہا جائے تو اور بات ہے۔اَیُّھَا النَّبِیُّ منصوص ہے اور عبادت میں ہے۔لکھا ہے کہ عبادت میں قیاس جائز نہیں لہٰذا اس پر قیاس کرکے یارسول اللہ نہیں کہا جاسکتا۔خلیفہ خدا بناتا ہے فرمایا۔خدا جسے چاہتا ہے خلیفہ بناتا ہے۔خدا کی مرضی سے خلافت ہوئی۔خدا خود بناتا ہے۔سورۃ نور میں لکھا ہے کہ خدا خود خلیفہ بناتا ہے۔حضرت ابوبکر نے منبر پر خطبہ پڑھا تو بعد میں خلیفہ ہوئے۔خلافتیں قرآن شریف میں چار آئی ہیں۔(۱) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔(البقرۃ:۳۱) (۲) حضرت داؤد کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ کہا۔(۳) سورۂ نور میں خلفائے راشدین کا وعدہ ہے۔(۴) سارے جہان کو خلیفہ کہا۔(یونس:۱۵) مریض دل فرمایا۔جس آدمی میں قوت فیصلہ اور تاب مقابلہ نہ ہو سمجھو کہ اس کا دل مریض ہے۔صحابہ کس طرح فتح پاتے تھے فرمایا۔صحابہ کرام نے مفصلہ ذیل قواعد پر عمل کرکے فتوحات حاصل کیں۔(۱) خشوع فی الصلوٰۃ۔مومن خاشع وہ ہے جسے اپنی قوت، اپنے علم، اپنے جتھے کسی کا گھمنڈ نہ ہو۔اس زمین کی طرح ہو جو پانی کی محتاج اور اس کے اثرات قبول کرنے کے لیے بالکل تیار ہو۔