ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 476
شکل نہیں اور نہ اس کا کوئی مکان مقرر ہے تو خدا تعالیٰ کے متعلق ایسا سوال کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔مومن فرمایا۔مومن وہ ہوتا ہے جو دوسرے مومن کے لیے موجب راحت ہو۔نیاز مندی فرمایا۔نیاز مندی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک خادمانہ ہوتی ہے۔دوسری عاشقانہ ہوتی ہے۔خادمانہ نیازمندی یہ ہے کہ جیسے بادشاہ کے دربار میں انسان عمدہ لباس پہن کر قواعد کے مطابق وضعداری کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔اس کی مثال مومن کی نماز اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہے۔دوسری نیاز مندی قواعد سے آزاد عاشقانہ رنگ میں ہوتی ہے۔اس کی مثال اللہ تعالیٰ کی عبادت میں روزے اور حج کے ساتھ ہے۔عمل تسخیر فرمایا۔جموں میں ایک مولوی صاحب میرے پاس آیا کرتے تھے۔ایک دن کہنے لگے کہ آپ کو تسخیر کا علم ضرور آتا ہے مجھے بھی سکھلا دو۔میں نے کہا وہ عمل یہ ہے کہ جب گھر سے نکلا کرو تو یہ پڑھا کرو۔بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ۔کہنے لگا یہ تو میں جانتا ہی ہوں کوئی نئی بات بتلاؤ۔یار کا خیال ہو تو پھر اوروں پر نظر کہاں فرمایا۔ہمارے ملک میں ہیر اور رانجھا کا قصہ مشہور ہے، دو عاشق معشوق تھے۔کہتے ہیں کہ ایک مولوی صاحب نماز پڑھ رہے تھے کہ ہیر ان کے آگے سے گزر گئی۔نماز سے فراغت کے بعد جب ہیر انہیں ملی تو انہوں نے شکوہ کیا کہ دیکھ میں نماز پڑھتا تھا تو میرے آگے سے گزری یہ گناہ ہے۔اس نے کہا میں اس وقت اپنے یار کے خیال میں بے خبر جارہی تھی میں نے نہ آپ کو دیکھا ہے نہ آپ کی نماز کو اور تعجب ہے کہ آپ تو نماز میں تھے چاہیئے تھا کہ آپ کو اپنے خدا کا دھیان رہتا میں کس طرح آپ کو نظر آگئی۔مولوی صاحب بہت شرمندہ ہوئے۔الہامات رحمانی اور شیطانی فرمایا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی الہامات ہوتے ہیں اور شیطان اور نفس امارہ کی طرف سے بھی الہامات ہوتے ہیں۔رحمانی اور شیطانی الہاموں میں فرق یہ ہے۔(۱)خدا کے الہام کے ساتھ ایک سرور ہوتا ہے اور شوکت ہوتی ہے جو شیطانی الہامات میں نہیںہوتی۔