ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 475 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 475

فرمایا۔ان پر ہم نے یہ کتابیں بڑھائی ہیں۔مدونہ، مبسوط، مغنی، محلی، شیخ ابن تیمیہ، ابن قیم، تفسیر کبیر، امام غزالی کی کل تصانیف۔بخاری فرمایا۔نوّے ہزار آدمیوں نے بخاری صاحب سے کتاب بخاری سنی ہے۔استاد ہوں تو ایسے فرمایا۔قبولیت دعا کے بھی عجیب در عجیب رنگ ہیں۔میرے ایک استاد تھے جن کا نام تھا حکیم علی حسین صاحب۔میں ایک دفعہ انہیںملنے گیا اس وقت میری ماہوار آمدنی ایک ہزار روپے تھی مگر جیسے میری عادت ہے میرا لباس سادہ تھا بلکہ کچھ میلا بھی تھا۔مجھے دیکھ کر وہ گھبرائے اور کہنے لگے کہ میں جو خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگا کرتا ہوں ان کی قبولیت کے نشان میں ایک یہ دعا بھی مانگا کرتا ہوں کہ میرا کوئی شاگرد ذلیل نہ ہو اور اس کی آمدنی ایک ہزار روپے ماہوار سے کم نہ ہو۔تمہاری کیا حالت ہے۔جب میں نے اپنی اصلی حالت کا اظہار کیا تب ان کی تشفی ہوئی۔موقع سے یوں فائدہ اٹھاتے ہیں فرمایا۔جب ہم حج پر گئے تو ہم نے ایک روایت سنی ہوئی تھی کہ مکہ میں جو شخص دعائیں مانگے اس کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔یہ روایت تو کوئی چنداں قوی نہیں تاہم جب وہ دعا مانگنے لگے تو ہم نے یہ مانگا ’’یا الٰہی میں جب مضطرب ہو کر کوئی دعا تجھ سے مانگوں تو اس کو قبول کرلینا۔‘‘ ایسا سوال ناجائز فرمایا۔ایک شخص نے ہم سے سوال کیا کہ بتلاؤ خدا کی کیا شکل ہے اور اس کی رنگت کیا ہے؟ میں نے کہا اچھا پہلے تم یہ بتلاؤ کہ تمہاری آواز کی کیا شکل ہے اور تمہاری قوت ذائقہ کی کیا صورت ہے اور تمہاری بینائی کی کیا رنگت ہے اس نے کہا یہ تو ہم نہیں بتا سکتے لیکن ان چیزوں کا کم از کم مقام تو معین ہے۔میں نے کہا اچھا بتلاؤ تمہاری قوت واہمہ جو ذرا سی دیر میں سارا جہاں گھوم آتی ہے اس کی کون سی جگہ مقرر ہے اور زمانہ کی کون سی جگہ مقرر ہے۔پس جبکہ ہم ایسی بہت سی مخلوق کو جانتے ہیں جس کی کوئی جگہ مقرر نہیں کرسکتے پھر جب مخلوق میں ایسی مثالیں موجود ہیں تو خدا تو پھر خدا ہے۔ایک سیکنڈ کا لاکھواں حصہ بھی سارے جہان کو اپنی بغل میںلیے بیٹھا ہے۔زمانہ موجود ہے مگر اس کی کوئی