ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 445
ہاں میں اگر حضرت صاحب کی کسی تقریر یا تحریر کا صریح اختلاف کروں تو حق پہنچتا ہے کہ اسے نہ مانا جاوے۔ورنہ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ ماننا چاہیے۔خلیفہ ماننے کے یہ معنے نہیں کہ جو بات اس کی اپنی سمجھ اور عقل میں آجاوے وہ مان لی جاوے اور دوسری سے انکار ہو۔اس طرح پر تو ایک بے عقل اور معمولی انسان کو بھی خلیفہ مانا جاسکتا ہے۔علاوہ بریں حضرت خلیفۃ المسیح ؓ نے مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے یہ ظاہر فرمایا ہے کہ وہ قوم میں نظام وحدت قائم رکھنا چاہتے ہیں اور ہر گز پسند نہیں کرتے کہ کسی قسم کا تفرقہ ہو۔ایسے لوگ جو تفرقہ پیدا کرنے والے اسباب کو پیدا کرتے ہیں وہ خواہ کوئی ہو اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ایسا ہی وہ ان لوگوں کو کبھی پسند نہیں کرتے جو دوسروں کے پاس اپنے کسی بھائی کے متعلق غلط فہمی پھیلاتے اور ان کی نکتہ چینیاں اور بدگوئیاں کرتے ہیں اور دوسروں کو اس کے خلاف اکساتے ہیں۔اس طریق کو آپ سخت ناپسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ وحدت جو حضرت مسیح موعود ؑ نے پیدا کی ہے قائم رہے۔حضرت خلیفۃ المسیح ؓنے کھلے کھلے الفاظ میں فرمایا کہ میں ( الصف : ۷)کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مانتا ہوں کہ یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کے متعلق ہے اور وہی احمد رسول ہیں۔غرض آپ کے اندر زور دار خواہش ہے کہ نظام وحدت کو قائم رکھا جاوے اور حقوق اخوت کی قدر کی جاوے۔ایسی باتیں جو جماعت میں اختلاف پیدا کرتی ہیں انہیں ہر گز نہ پیدا کیا جاوے۔اگر اس قسم کی باتیں ہوں تو پھر ہزاروں اختلاف ہوسکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو خواہش تھی اور جس غرض کے لئے وہ دنیا میں آئے تھے اس کو مدنظر رکھا جاوے۔الغرض حضرت کو یہ سخت ناپسند ہے کہ وحدت کو توڑا جاوے اور باہم عداوتیں اور رنجشیں پیدا ہوں۔امید ہے کہ احباب اس پر توجہ کریں گے۔(الحکم جلد ۱۵ نمبر ۳۲،۳۳ مورخہ ۱۴و۲۱ ؍ستمبر۱۹۱۱ء صفحہ ۱۰)