ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 444 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 444

مہارت تامّہ حاصل کریں اور قوم کو ان کے وعظ کی خدمات سے مستفید ہونے کا موقع ملے۔وَمَا ذَالِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ۔نور الدین (الحکم جلد۱۵ نمبر ۳۲،۳۳ مورخہ ۱۴۔۲۱؍ستمبر۱۹۱۱ ء صفحہ۵ ،۶) حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور برادرم ظہیر ناظرین الحکم منشی ظہیرالدین صاحب کے نام سے واقف ہیں کیونکہ وہ ایک وقت الحکم کے اسسٹنٹ ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور علاوہ بریں’’ وید کے ظہور میں فتور‘‘ اور ’’ نبی اللہ کا ظہور‘‘ اور رد چکڑالوی وغیرہ رسالہ جات کے مشہور مصنف ہیں۔اس لئے مجھے ان کے انٹروڈیوس کرانے کی چنداں حاجت نہیں۔وہ چند روز سے دارالامان میں ہیں اور انہیںحضرت خلافت مآب کے حضور کچھ وقت گزارنے کا شرف حاصل ہوا۔حضرت خلیفۃ المسیح ؓ نے مختلف اوقات میں جو کچھ انہیں بطریق نصیحت فرمایا اس کا خلاصہ انہوں نے مجھے سنایا ہے اور میںنے ان کے ایماء سے مناسب سمجھا کہ اسے الحکم میں چھاپ دوں تاکہ دوسروں کو فائدہ پہنچے اور بہت سی غلط فہمیاں رفع ہوں۔بعض موجودہ اختلافات متعلقہ احمدی اور غیر احمدی کے سوال پر جو کچھ مخالف اخباروں میں لکھا جا رہا ہے اور المنیروغیرہ زور دے رہے ہیں کہ اب خلیفۃ المسیح ؓ اپنی پوزیشن صاف کریں۔اس کے متعلق فرمایا کہ ان کو لکھ دو کہ خلیفہ کے پاس اس قدر وقت نہیں کہ وہ پوزیشن صاف کرتا رہے۔میں کوئی مامور نہیں ہوں۔نیز فرمایا کہ ہم اس کو پسند نہیں کرتے جو پیسہ اخبار وغیرہ میں ہماری جماعت کے لوگ مضامین چھپواتے ہیں وہ سلسلہ کا دشمن ہے نیز یہ کہ کیوں مجھ سے فیصلہ نہیں کرایا جاتا ہر شخص کیوں خود ہی فیصلہ کرنے بیٹھتا ہے جو مجھے خلیفۃ المسیح سمجھتا ہے اس کا یہ حق نہیں۔اور میں نے اگر کسی تحریر پر اپنی پسندیدگی کا ذکر کیا ہے تو کسی کو کیا معلوم ہے کہ کس امر میں پسند کرتا ہوں۔جبکہ میری رائے پہلے شائع ہو چکی ہے اور میں ظاہر کر چکا ہوں کہ اصولی اختلاف ہے۔