ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 443 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 443

۔اس کے سوا کسی اور کو معبود نہ جانیں۔۳۔ماپ تول میں خیانت نہ کریں۔۴۔دیانت داری سے ماپ تول پورا کریں۔۵۔لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیں۔۶۔ملک میں فساد نہ پھیلاتے پھریں۔۷۔جو نفع تجارت میں بچے اُسی کو اپنے حق میں اچھا سمجھیں۔یہ سب باتیں ایسی ہیں جن کو ایک معقول پسند آدمی بے دلیل تسلیم کرتا ہے۔بقول یہ کہ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔واعظین تیار کرنے کا طریق اب ہم تہذیب الاخلاق کے فاضل ایڈیٹر صاحب کے الفاظ ذیل کی طرف دوبارہ ناظرین کی توجہ مبذول کرتے ہیں۔’’ کاش! ہندوستان میں بھی ایسا ہی کوئی انتظام ہوتا۔وعظ اگر ضرورت زمانہ کے معیارپر ہوا کرے تو مسلمان بہت جلد فرض شناس بن سکتے ہیں مگر اس کا کیا علاج ہے کہ کوئی معیار ہی ہم نے نہیں رکھا ہے اور کسی قسم کی اصلاح کا بند و بست ہی نہیں کرتے۔‘‘ صاحب ممدوح بالکل بجا اور درست فرماتے ہیں۔اس بارہ میں مدرسہ عالیہ دیو بند، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنوء، مدرسہ نعمانیہ لاہور وغیرہ اسلامی مدارس کے منتظمین کی توجہ مطلوب ہے اگر ہر ایک اسلامی مدرسہ کے متعلق ایک جماعت بنام جماعت الواعظین کھولی جائے جس کے طلباء باری باری ایک مقررہ مضمون و موضوع پر مدرس کی زیر صدارت وعظ کے پیرایہ میں ضرورت زمانہ کے معیار پر لیکچر دیا کریں جن کا ماخذ قرآن، تفسیر، حدیث و فقہ ہو۔اور مدرس اعظم ان لیکچروں کے حسن و قبح پر اپنے متعلّمین کو مطلع کیا کریں تو بہت بڑے فائدہ کی توقع کی جاسکتی ہے۔اگر اس طرح اسلامی مدارس میں طلباء کو وعظ کہنے کی تعلیم دی جائے اور اس کے اصول و فروع کی تلقین کی جائے تو یقین واثق ہے کہ طلباء وعظ میں