ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 43 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 43

نوافل نوافل بعد سنت کے پڑھنا موجب ثواب ہے۔بیٹھ کے یا کھڑے ہو کر پڑھیں۔ہاں جو دو نفل بعد وتر کے ہیں وہ مسنون بھی ہے کہ بیٹھ کر پڑھے۔حضرت نبی کریم ﷺبیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔عشاء سے قبل سنّت عشاء کے پہلے چار رکعت سنت کسی صحیح حدیث میں نہیں آئی۔لطیفہ ایک شخص شیعہ جو کہا کرتا تھا کہ سوائے حضرت علی اور دو تین اور آدمیوں کے باقی سب اصحاب رسول منافق تھے اور اس امر پر بحث کیا کرتا تھا۔ایک دفعہ کسی شخص کو نصیحت کر رہا تھا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب سنتے تھے آپ نے اس کو فرمایا کہ تُو کیوں نصیحت کرتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے رسول نے ۲۳ سال تک ہزاروں کی نصیحت کرنے میں لگائے اور نتیجہ یہ ہوا کہ چار پانچ کم ایک لاکھ چوبیس ہزار منافق آپ کے گرد جمع ہو گیا۔تو اب آپ نصیحت کر کے کیا فائدہ اٹھائیں گے؟ شیعہ شرمندہ ہو کر خاموش ہو گیا۔( البدر جلد ۸ نمبر۴ مورخہ ۳؍دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۴) ایک خط اور اس کا جواب بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمد ہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم وارث اخلاق احمدی واقف اسرار سرمدی جناب حضرت خلیفۃ المسیح صاحب مد ظلہ آداب نیاز مسنونہ کے بعد گذارش حال یہ ہے کہ موضع … کی قضا میرا بھائی کیا کرتا تھا۔اب عرصہ ایک سال کا ہوا کہ میرا بھائی بقضائے الٰہی فوت ہو گیا۔اب گائوں کے لوگوں نے مجھے واسطے قضا کے مقرر کر لیا کہ نکاح، جنازہ تم ہی کر دیا کرو۔بندہ نے اس کام کو اس واسطے منظور کر لیا کہ اگر کوئی مخالف قاضی آ گیا تو ہماری بات ان کو سننے نہ دے گا۔اب ان کے نکاح میں اور ان کی میت میں اور بروز جمعہ خطبہ میں حضرت اقدس کے مامور من اللہ ہونے کا ذکرکر نے کا موقعہ مل جاتا ہے۔مخالف و موافق کل میرے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور توکُل بدعات موقوف کر دیں مگر ایک دسواں،