ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 431 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 431

مگر آپ ہیں کہ عرض کیے جاتے ہیں کہ میرا بھائی ہارون (القصص:۳۵) اگر قلب کے کسی گوشہ میں ذرا بھی نبی بننے کی خواہش ہوتی تو ایسا کبھی نہ فرماتے۔(البدر جلد۱۰ نمبر۴۳ مؤرخہ ۲۴ ؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ ۲تا۴) ملفوظات امیر المؤمنین ۶؍جولائی۱۹۱۱ء مومن کا فرض فرمایا۔مومن کا فرض ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکرکرتا رہے۔اپنی اپنی قبر میں پڑنا ہے یاعیسیٰ بدین خود موسیٰ بدین خود صحیح نہیں۔لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ کا مطلب فرمایا۔بعض لوگوں کو دھوکہ ہوا ہے۔وہ(الصف :۳)سے یہ سمجھتے ہیں کہ جس بات پر خود عمل نہ ہو اسے کہنا ہی نہیں چاہیے۔اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ جو قول و قرار پورا نہ کرنا ہو وہ کہنا ہی نہیں چاہیے۔عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ کی آیت سے غلط استدلال دوسری آیت یہ(المائدۃ:۱۰۶)سے استدلال غلط کرتے ہیں۔حضرت ابوبکرؓ سے کسی نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا اِذَا رَأَیْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَ ھَوًی مُتَّبَعًااَوْ اِعْجَابَ کُلِّ ذِیْ رَأْیٍ بِرَأْیِہِ فَعَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ جب تو دیکھے ایک شخص دنیا کا حریص ومتبع ہے اور گری ہوئی خواہشوں کا پیرو ہے اور خود پسندی کا یہ حال کہ اپنی ہی رائے پسند ہے تو اس وقت عَلَیْکُمْ اَنْفُسُکُمْ کا موقعہ ہوتا ہے۔فرمایا۔میرا یہی دستور ہے کہ ایک حد تک کہتا ہوں پھر میں حضرت ابوبکرؓ کے قول پر عمل کرتا ہو