ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 430
نہیں چلتے۔بات کرتے کرتے دوسری بات شروع کردیتے ہیں تاکہ اصل مطلب خبط ہوجائے۔حضرت عیسیٰؑ کا مستقر فرمایا۔انیس سو سال سے حضرت عیسیٰ ان لوگوں کے زعم میں آسمان پر رہتے ہیں اور چند سالوں کے لیے یہاں آئے تو ان کا مستقر تو آسمان ہی ٹھہرا۔حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں۔(البقرۃ:۳۷)۔لوگوں سے گفتگو کا طریق فرمایا۔خدا تمہیں نیک مجلس عطا کرے اور عاقبت اندیشی سے گفتگو کرنے کا طرز آوے۔لوگوں سے ان کے قدر کے مطابق بات کرو۔حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ َوسَلَّمَ اَنْ نُّنَزِّلَ النَّاسَ مَنَازِلَھُمْ(صحیح مسلم مقدمۃ الامام مسلم ؒ)۔جب کوئی بات کرنے والا بیہودگی کی راہ اختیار کرے تو تم ایسی تدبیر کرو کہ وہ بیہودگی چھوڑ دے۔۱۰؍اگست ۱۹۱۱ء بوقتِ دعویٰ خدا کا نام لیا جائے فرمایا۔کئی لوگ ایسے ہیں کہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر خدا کا نام نہیں لیتے۔حضرت یوسف کے بھائیوں نے (یوسف:۶۲) (یوسف:۶۴) کہا اور آخر اتنی مصیبتوںمیں پڑے۔فرعون کی بدظنی کا بد نتیجہ فرمایا۔بدظنی انسان کو ہلاک کردیتی ہے۔اس بات کی تمیز کہ جو ظن میں نے کیا ہے بد ہے یا نیک، یہ بھی خدا کے فضل پر موقوف ہے۔اللہ تعالیٰ مومن کو ایک فراست بخشتا ہے۔فرعون کو بدظنی نے ہلاک کیا۔اس نے بدظنی کی کہ حضرت موسیٰ حکومت کے خواہشمند ہیں۔حالانکہ مجھے، جیسا ایک اور ایک دو پر یقین ہے ایسا ہی اس بات پر کہ انبیاء، خلفاء، ائمہ کے دل میں قطعاً ریاست، دولت، حکومت کا خیال نہیں ہوتا۔اور یہ بات چونکہ مجھ پر گزری ہے اس لیے اسے خوب سمجھتا ہوں۔حضرت موسیٰ کو جناب الٰہی میں سے ارشاد ہوتا ہے کہ تم کو رسالت دی گئی فرعون کی طرف جاؤ۔