ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 429
حضرت موسیٰ و ہارون علیہماالسلام کو ہدایت فرمائی کہ فرعون کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرنا۔یہ امر قابل غور ہے جن لوگوں کو خدا کی باریک در باریک مصلحتوں نے امیر بنایا ہوتا ہے ان کے مراتب کا لحاظ کرنا چاہیئے۔بعض نادان کہتے ہیں ہم کیوں کسی کی خوشامد کریں۔مگر جب خدا نے کسی کو خوشامد کرنے کے لیے بنایا تو بندے کی کیا ہستی کہ اس کی مخالفت کرے۔ہمارے ضلع میں ایک صوفی چشتی تھے حضرت شمس الدین۔کسی نے ان کی نسبت کہا کہ فقیر نہیں۔میں نے و جہ پوچھی تو فرمایا کہ وہاں ڈپٹی یا تحصیلدار آتے ہیں تو مرغ پکتا ہے اور ہمارے لیے دال۔میں نے اسے کہا کہ خدا تعالیٰ آپ کو گھر میں کیا دیتا ہے۔کہا روکھی سوکھی روٹی۔اور ان تحصیلداروں اور ڈپٹیوں کو کیا دیتا ہے۔کہا گوشت و پلاؤ۔تب میں نے اسے کہا کہ پھر حضرت خوا جہ صاحب پر اعتراض کرنے سے پہلے خدا پر اعتراض کرو گے کہ اس جناب میں لحاظ داری ہے۔ایک دفعہ ایک بڑا معزز قوم و عہدے کے اعتبار سے یہاں آیا اور اس نے مجھے کہا کہ یہاں بڑی لحاظ داریاں چلتی ہیں۔میں نے کہا کیونکر؟ کہا دیکھئے کل مولوی عبدالکریم صاحب کے لیے حضرت صاحب نے کھانے کے متعلق کس قدر تاکید فرمائی ہے۔میں نے کہا پھر لحاظ داری کیا ہوئی؟ لحاظ داری ہوتی تو آپ جو اُن سے باعتبار قوم و عہدہ معزز ہیں آپ کے لیے کوئی خاص اہتمام ہوتا۔اس طرح اسے سمجھا کر میں نے پھر دکھایا کہ دیکھو گھاس پر ہم دونوں کا پاؤں پڑتا ہے مگر اس بڑ کی چوٹی پر نہیں۔خدا نے ایک کو بڑا بنادیا ایک کو چھوٹا۔معیّت متشابہ ہے فرمایا۔معیت متشابہ ہے محکم نہیں۔کیونکہ۔۔۔۔ذات کے تو اللہ تعالیٰ فرعون، ہامان کے ساتھ بھی ہے۔پھر ایک اور مقام ہے جب حضرت موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم پکڑے گئے تو حضرت بولے (الشعراء:۶۳) دیکھئے یہاں بنی اسرائیل کے ساتھ بھی معیت نہ رکھی۔سلسلہ گفتگو میں ٹھیک نہ چلنے والے فرمایا۔جو لوگ اچھے نہیںہوتے وہ سلسلہ گفتگو میں ٹھیک