ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 428
دوسرے کو شکار کرتے ہیں۔فرمایا۔انسان کے پیٹ میں روٹی نہیں پہنچتی جب تک کئی جنگیں نہ ہولیں۔حضرت موسیٰ کو آگ دکھائی گئی جس میں یہ اشارہ تھا کہ جنگوں کے بغیر کامیابی نہ ہوگی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمۃ للعالمین تھے، جنہوں نے تیرہ برس تک بڑے ضبط اور استقلال کے ساتھ صبر کیا، ان کو بھی ستایا گیا کہ آپ کو جنگ کرنے پڑیں گے۔۹؍اگست ۱۹۱۱ء انبیاء کو بہت مجاہدات کرنے پڑتے ہیں فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے حق میں فرمایا ہم تجھے کندن بناتے رہے۔فرمایا۔انبیاء کو بہت مجاہدات کرنے پڑتے ہیں۔پہلے شاہزادگی کی حالت میں پرورش پائی۔پھر بیابان میں ایک بزرگ کی بکریاں چرانے لگے۔میرے ایک استاد تھے عبدالقیوم۔وہ فرمایا کرتے کہ پہاڑوں میں بکریاں چرانا بڑا مشکل کام ہے۔مضبوط لٹھ رکھنا پڑتا ہے جو شیر اور ریچھ کا مقابلہ بھی کرے۔پھر بکریوں کو بھی ہانکنا پڑتا ہے۔گویا ایساآدمی چاہیئے جو گرم بھی ہو اور نرم بھی۔صحبت صالحین فرمایا۔نیک صحبت میں رہو۔نیکوں کے پاس ضرور جایا کرو۔رامپور میں جب میں پڑھتا تھا تو ایک بزرگ شاہ جی عبدالرزاق تھے۔اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہٗ وَارْحَمْہٗ۔میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ایک دفعہ کچھ ایسا اتفاق ہوا (کوئی خاص سبب تو یاد نہیں) کہ میں کئی دن تک ان کے پاس نہ گیا۔آپ نے فرمایا! نورالدین کبھی قصاب کی دکان پر گئے ہو۔عرض کیا کئی دفعہ دکان پر سے گزرا ہوں گا مگر صوفیانہ باریک در باریک علوم آپ کے حصے میں ہیں۔فرمایا۔دو چھریاں کام لینے سے کند ہوجاتی ہیں تو قصاب تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کو آپس میں رگڑ لیتا ہے تاکہ تیز ہوجائیں۔اسی طرح محبت نیک اپنا اثر رکھتی ہے۔کوئی ان لوگوں کی صحبت میں سچی نیاز مندی کے ساتھ رہے تو اللہ کے ساتھ تعلق بڑھ جاتا ہے۔حفظِ مراتب کی تلقین فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے (طٰہٰ:۴۵)ارشاد کرکے