ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 420 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 420

چیز اپنے ہاتھ میں رکھ کر پوچھا کہ ایسی ہی چیز آپ نے کسی اور کے ہاتھ میں دیکھی تھی؟ کہا۔ہاں۔پوچھا پھر؟ کہا۔اس سے میں قوی تھا لے کر توڑ دی۔اب آپ کے مقابلہ کی مجھ میں طاقت نہیں اس لیے دل سے برا مناتا ہوں۔رئیس نے کہا پھر ہمارا کیا علاج؟ اس پر کہا کہ آپ کے متعلق ایک آیت قرآن مجید میں ہے۔(طٰہٰ :۱۰۶) غرض یہ ساز و سامان دنیوی یہ شان و شوکت ایک دن فنا ہونے والا ہے اس پر گھمنڈ نہیں چاہئے۔فرمایا۔مشفق کے معنے ہیں ڈرنے والا اور ڈرانے والا۔ہمارے ہندوستان میں اور معنے لیے جاتے ہیں۔۲؍اگست ۱۹۱۱ء مخلوقِ خدا کی ابتداء کا زمانہ فرمایا۔غیر مذاہب کے مقابل میں تم بڑی جرأت و صفائی سے کہہ دو کہ اسلام نے خدا کی مخلوق کے ابتداء کا کوئی زمانہ مقررنہیں کیا۔کوئی حد بندی نہیں فرمائی۔وہ ازل سے خالق ہے۔آگ اور لڑائی فرمایا۔آگ کو لڑائی سے عجیب تعلق ہے۔پہلے جب لڑائی کے مشورہ کے لیے دعوت ہوتی تھی تو بھی آگ ہی جلائی جاتی تھی۔پھر پہاڑ پر الاؤ یہ بھی آگ ہی ہے۔تیرو تلوار کو درست کرنے کے لیے بھی آگ ہی چاہیئے۔پھر بندوق، توپ یہ آگ ہی ہیں۔مسلمانوں میں پائی جانے والی خرابیاں فرمایا۔خود رائی، خودپسندی مسلمانوں میں بہت بڑھ گئی ہے۔وہ کسی سے مشورہ ہی نہیں کرتے اور اپنے مخالف رائے سننے کی تاب ہی نہیں رکھتے۔سستی، کاہلی، باہمی رنجشیں، اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔یاجوج ماجوج فرمایا۔جیسا مجھے ایک اور ایک دو پر یقین ہے۔اسی طرح مجھے اس بات پر یقین ہے کہ یاجوج ماجوج وہ قومیں ہیں جو کشمیر، ایران، بخارا کے شمال میں ہیں۔چین کی دیوار یورال کی آرمینا اور آذربائیجان کے درمیان کی دیوار ان قوموں کے حملوں کو روکنے کے لیے بنائی گئی۔