ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 412 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 412

کے اس پر اظہار رائے کریں تاکہ عام مسلمانوں کی طبائع کا میلان دیکھ کر اس درخواست کو پیش کیا جاوے۔المعــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــلن نورالدین (خلیفۃ المسیح الموعودؑ) قادیان ضلع گورداسپور یکم جولائی ۱۹۱۱ء (الحکم جلد ۱۵ نمبر۲۵،۲۶ مورخہ۲۱،۲۸؍جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۲ تا۴) چند سوالوں کے جواب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔آپ کا خط میں نے حضرت امیر المؤمنینؓ کے پیش کیا۔سوال اوّل کے بارہ میں فرمایا۔میں جو ایمان لایا ہوں تو اللہ کی کتاب پر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر، اجماع امت پر۔باقی جو عجائبات قدرت ہیں وہ جس کو سمجھاتا ہے وہی بیان کرنے کا اہل ہے۔مجھ کو تجلّٰی عرش و کعبہ کی حقیقت نہیں بتائی گئی۔وَمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ۔اور نہ یہ عجائبات ضروریات دین میں داخل ہیں وَ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ(کنز العمال جلد ۳ صفحہ۶۴۰)۔سوال دوم:۔علمِ حق در علم صوفی گم شود کے معنے آپ دریافت کرتے ہیں۔جواب۔یہ نہ تو قرآن ہے نہ حدیث۔یعنی خدا کا کلام ہے نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ایک صوفیانہ خیال ہے۔آپ ایسا نہ سمجھیں کہ ہر بات ٹالتا ہے۔اس لیے سنئے خدا کا علم اس کی اپنی ذات پاک کے متعلق ہے اور صوفی کا علم صوفی کی ذات سے وابستہ ہے۔ایک دوسرے میں یہ علم حلول نہیں کرتے۔صوفی کو وہی علم ہوسکتا ہے جو صوفی کے تعلق ہو۔اور علم الٰہی اللہ کی ذات میں ہے وہ صوفی کے علم میں گُم ہے یعنی نہیں۔یعنی صوفی کے علم سے جناب الٰہی کا علم نہیں مل جاتا۔دوم یہ معنے ہیں کہ علم حق یعنی سچا علم صوفیوں کے علم میں گم رہتا ہے۔یعنی تمام سچے علوم صوفیوں کے علم میں آجاتے ہیں۔سوال سوم:۔طالب مطلوب میں فانی ہوتا ہے یا برعکس اور فنا و بقا وجودی ہے یا شہودی؟