ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 411
کے سرکاری کام میں حاضری پر ترجیح دے کر علاوہ تعطیل کے دن کے ایک دن اور بھی انہیں غیر حاضر رہنے کی اجازت دی ہے۔اور جو امر ہم پیش کرتے ہیں اس کی دقت اس دقت سے بدرجہا کم بھی ہے کیونکہ صرف دو گھنٹے کی رخصت نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے نہ آرام کے لئے ہم چاہتے ہیں۔تو ہمیں یقین کامل ہوتا ہے کہ شہنشاہ جارج پنجم کی تاجپوشی کے موقع پر اگر کل ہندوستان کے مسلمان متفق ہو کر اس مذہبی رکاوٹ کے دور کیا جانے کی درخواست کریں تو گورنمنٹ انگریزی ضرور ان کی اس دقت پر غور فرما کر اس کی اصلاح اس مبارک موقع پر کر کے چھ سات کروڑ نہیں بلکہ کل دنیا کے مسلمانوں کے دلوں کو مسخر کر لے گی کیونکہ مسلمان قوم سب سے بڑھ کر مذہبی آزادی کی دل سے قدر کرنے والی ہے۔ان وجوہات مذکورہ بالا کی بنا پر ہم نے ایک میموریل تیار کیا ہے جو حضور وائسرائے ہندکی خدمت میں بھیجا جاوے گا۔لیکن چونکہ جس امر کی اس میموریل میں درخواست کی گئی ہے وہ جملہ اہل اسلام کا مشترک کام ہے اس لئے قبل اس کے کہ یہ میموریل حضور وائسرائے کی خدمت میں بھیجا جاوے ہم نے یہ ضروری سمجھا ہے کہ اس کا خلاصہ مسلمان پبلک اور مسلمان اخبارات اور انجمنوں کے سامنے پیش کیا جاوے تا کہ وہ سب اس پر اپنی اتفاق رائے کا اظہار بذریعہ ریزولیوشنوں وتحریرات وغیرہ کے کر کے گورنمنٹ پر اس سخت ضرورت کو ظاہر کریں تاکہ اس مبارک موقع پر یہ آزادی اہل اسلام کو حاصل ہوجاوے۔ہمیں غرض صرف اس امر سے ہے کہ جملہ اہل اسلام کے اتفاق سے جیسی کہ یہ ضرورت متفقہ ہے یہ درخواست حضور وائسرائے ہند کی خدمت میں پیش ہو۔اور یہ غرض نہیں کہ ضرور ہم ہی اس کو پیش کرنے والے ہوںچونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں یہ تحریک ڈالی ہے اس لئے ہم نے اسے پیش کر دیا ہے۔اگر کوئی تحریک یا جماعت ایسی ہوجو صرف اس وجہ سے اس کے ساتھ اتفاق نہ کرے کہ یہ میموریل ہماری طرف سے کیوں پیش ہوتا ہے توہم بڑی خوشی سے اپنے میموریل کو گورنمنٹ کی خدمت میں نہیں بھیجیں گے۔بشرطیکہ اس کے بھیجنے کا اور کوئی مناسب انتظام کر لیا جاوے۔پس یہ اشتہارجملہ ایڈیٹران اخبارات اسلامی و سیکٹریان انجمنہائے وشاخہائے لیگ و معزز اہل اسلام کی خدمت میں اس غرض کے لئے بھیجا جاتا ہے کہ بہت جلد بذریعہ ریزولیوشنوں کے اور بذریعہ تحریرات