ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 410
ہیں۔کیونکہ جو کام ان کے ذمہ ڈالا گیا ہے وہ انہیں بہر حال پورا کرنا ہوگا۔برٹش گورنمنٹ کے نظام میں اس قسم کی مثالیں پہلے موجود ہیں کیونکہ اس گورنمنٹ کو مختلف قوموں پر حکمرانی کا موقع خدا نے دیا ہے اس لئے وہ حتی الوسع ان مختلف اقوام کے مذہبی اصولوں کو مد نظر رکھ کر کام کرتی ہے۔چنانچہ مصر میں جہاں بڑا عنصر آبادی کا مسلمان ہے اور خدیو مصر برٹش نگرانی کے نیچے حکمرانی کرتے ہیں وہاں تعطیل کا دن بجائے اتوار کے جمعہ ہی ہے چنانچہ سکول، کالج، دفاتر، عدالتیں وہاں جمعہ کو بند ہوتی ہیں اور اس طرح پر اہل اسلام کو اس حکم کے بجالانے میں جو نماز جمعہ کے متعلق تاکیدی طور پر قرآن کریم میں دیا گیا ہے کوئی دقت نہیں۔مگر وہاں چونکہ ایک کثیر حصہ اعلیٰ عہدہ دار ان کا انگریزوں کا ہے جو عیسائی مذہب رکھتے ہیں اس لئے گورنمنٹ نے ان کو یہ سہولت دے رکھی ہے کہ وہ اتوار کے دن چاہیں تو کام پر حاضر نہ ہوں اور اپنے کام کو باقی دنوں میں پورا کر دیں۔پس جہاں اعلیٰ عہدہ داران کو محض ان کی مذہبی آزادی قائم رکھنے کے لئے برٹش گورنمنٹ نے اس قدر اجازت دے دی ہے ہندوستان میں مسلمان ملازمین کو جن کی نسبت بھی کل عملہ سے بہت تھوڑی ہے صرف دو گھنٹہ کے لئے اجازت کا مل جانا ایک یقینی امر ہے کیونکہ صرف ساتویں دن دو گھنٹے کے لئے چند ملازمین کی غیر حاضری سے جو وہ بھی اکثر غیر ذمہ واری کے عہدوں پر ہوں گے۔کام کا کوئی بڑا حرج متصور نہیں اور اگر کوئی حرج ہوبھی تو وہی ملازم خود اپنے کام کو پورا کرنے کے ذمہ وار ہوں گے۔غرض کہ ایک طرف جب ہم نماز جمعہ کے لئے سخت تاکیدی حکم قرآن شریف میں پاتے ہیں جس میں اس قدر تاکید ہے کہ صاف الفاظ میں یہ کہا گیا ہے کہ جب نماز جمعہ کا وقت آجائے تو تم دنیا کے ہر ایک قسم کے کاروبار چھوڑکر نماز جمعہ کی ادائیگی میں مصروف ہو جاؤ اور جب تک نماز جمعہ ادا نہ کر لو کسی کام کی طرف متوجہ نہ ہو ورنہ اللہ تعالیٰ کی سخت گرفت کے نیچے آؤ گے۔اور اس کے ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ نماز جمعہ میں خطبہ میں جو اخلاقی تعلیم مسلمانوں کو دی جاتی ہے وہ ملک اور گورنمنٹ کے لئے کس قدر مفید ہے اور پھر دوسری طرف ہم ایسی نظیر بھی پاتے ہیں جس میں اسی قسم کی دقت ایک دوسرے ملک میں پیش آنے پر انگریزی گورنمنٹ نے اپنے ملازمین کے مذہبی حقوق کی ادائیگی کو ان