ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 408 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 408

علیحدہ علیحدہ بھی ادا کیا جاسکتا ہے بلکہ جماعت میں حاضر ہونا اور خطبہ سننا اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے لئے ضروری قرار دیئے گئے ہیں۔بلکہ عید کی نماز کے لئے بھی اس قدر تاکید اسلام میں نہیں جس قدر کہ جمعہ کی نماز کے لئے ہے۔اور مذہب اسلام کے رو سے جو شخص جمعہ کو چھوڑتا ہے وہ سخت گنہگار ہے ہندوستان کی تین بڑی قوموں یعنی ہندوؤں عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے ایک خاص دن میں عبادت الٰہی کے لئے جس شدّومد سے قرآن شریف میں جمعہ کے متعلق حکم ہے باقی دوقوموں کے سبت کے متعلق اس زور سے قطعاً ان کی مقدس کتابوں میں ذکر نہیں۔ان تمام باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جمعہ ایک عظیم الشان اسلامی تہوار ہے اور نماز جمعہ کے تمام شرائط کے ساتھ ادا کرنے کی ہر ایک مسلمان کو ایسی سخت تاکید کی گئی ہے کہ اسے صاف الفاظ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس وقت کسی دوسرے کام کو قطعاً نہ کرے۔اب یہ امر ظاہر ہے کہ جس قدر کسی بڑی قوم کے بڑے بڑے تہوار ہیں ان کے منانے کے لئے گورنمنٹ نے اپنی سب رعایا کو یکساں آسانی دے رکھی ہے۔سب سے زیادہ مشکلات ایسے تہواروں کے منانے میں ان لوگوں کو ہوسکتی ہیں جو بوجہ ملازمت گورنمنٹ اپنے وقت کے آپ مالک نہیں مگر ہماری مہربان گورنمنٹ نے صرف مذہبی آزادی کو مدنظر رکھ کر یہ ضروری قرار دیا ہے کہ سب قوموں کے بڑے بڑے تہواروں کے دنوں میں تمام سرکاری دفاتر اور سب عدالتیں وغیرہ بند رہیں تاکہ وہ حصہ رعایا جو ملازم گورنمنٹ ہیںاپنے دوسرے بھائیوںکے ساتھ ان تہواروںکے منانے میں شریک ہو سکیں۔درحقیقت اگر گورنمنٹ اپنے ملازمین کو اس قدر آزادی نہ دیتی تو پھر مذہبی آزادی برائے نام ہوتی۔پس گورنمنٹ کے اس طریق عمل سے کہ اپنے ملازمین کی خاطر وہ بڑے بڑے قومی تہواروںکے دنوں میں اپنے سب دفاتر کو بند رکھتی ہے یہ امر تو ظاہر ہوگیا کہ گورنمنٹ کا دلی منشاء یہ ہے کہ کسی قوم کو اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میںکسی قسم کی روک محسوس نہ ہو لیکن جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے جہاں تک دیکھا گیا ہے اس قسم کی آزادی ابھی تک حاصل نہیں اور شہنشاہ ہند کی تاجپوشی کے مبارک موقع پر اس آزادی کے حصول کے لئے جس قدر زور دیا جائے کم ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ نظام گورنمنٹ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہر ہفتہ میں دو دن کی تعطیل ہو