ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 407 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 407

رعایا کے اس حصہ کے دلوں میں جو اپنے بادشاہ کی وفاداری کو اپنے مذہب کا ایک جزو سمجھتے ہیں۔اس مبارک موقع پرمیں سلسلہ احمدیہ کا امام ہونے کی حیثیت سے ایک اہم امر کی طرف تمام مسلمانانِ ہند کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔سلطنت انگریزی نے جب سے ہندوستان میں قدم رکھا ہے یہ زرّیں اصول ہمیشہ اپنے مد نظر رکھا ہے کہ ہر قوم کو پوری مذہبی آزادی حاصل رہے اور اپنے فرائض مذہبی کی ادائیگی میں اسے کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔چنانچہ سب قومیں جو اس وسیع ملک میں آباد ہیں اپنے اپنے مذہبی فرائض اور مذہبی رسوم کی ادائیگی میں ایسی ہی آزاد ہیں جیسے کہ وہ اپنے اپنے ہم مذہبوں کی حکومت کے نیچے ہوتیں۔گورنمنٹ انگریزی کا نہ کبھی یہ منشا ہوا اور نہ ہی ہو سکتا ہے کہ کسی قوم کو بلاوجہ اس کے کسی مذہبی فرض کی ادائیگی سے روکا جاوے یا ایسے اسباب پیدا کئے جاویں جن سے ایسی ادائیگی میں کسی قسم کی رکاوٹ واقع ہو۔ہاں اگر کسی قوم کو کوئی تکلیف ایسی محسوس ہو تو گورنمنٹ کو اس کی اطلاع دینا یا اس کی طرف متوجہ کرنا یہ خود اس قوم کا فرض ہے۔اہل اسلام سلطنت انگریزی کی ان برکات سے ہر طرح فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن ایک امر ابھی تک ایسا ہے کہ اس کی طرف گورنمنٹ کو پورے زور سے توجہ نہیں دلائی گئی اور مسلمانوں کو قیصر ہند کے ہندوستان میں تاجپوشی کے مبارک موقع سے بڑھ کر بہتر موقع اس غرض کے لئے پھر میسر آنا مشکل ہوگا۔جمعہ کا دن اسلام میں ایک نہایت مبارک دن ہے اور یہ مسلمانوں کی ایک عید ہے بلکہ اس عید کی فرضیت پر جس قدر زور اسلام میں دیا گیا ہے۔ان دو بڑی عیدوں پر بھی زور نہیں دیا گیا جن کو سب خاص و عام جانتے ہیں۔کیونکہ یہ عید نہ صرف عید ہے بلکہ اس دن کے لئے قرآن کریم میں یہ خاص طور پر حکم دیا گیا ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو ہر قسم کے کاروبار کو چھوڑ کر مسجدوں میں جمع ہوجاؤ۔جیسا کہ فرمایا۔ (الجمعۃ :۱۰)یہی وجہ ہے کہ جب سے اسلام ظاہر ہوا اسلامی ممالک میں جمعہ کی تعطیل منائی جاتی رہی ہے اور خود اس ملک ہندوستان میں برابر کئی سو سال تک جمعہ تعطیل کا دن رہا ہے۔کیونکہ آیت مذکورہ بالا کی رو سے یہ گنجائش نہیں دی گئی کہ جمعہ کی نماز کو معمولی نمازوں کی طرح