ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 406
قدر مفصل لکھنے کے قابل ہے اور بیماری اجازت نہیں دیتی۔اگر مفید نہ ہوا تو انشاء اللہ تعالیٰ مکرر عرض کروں گا۔(نورالدین) ۱۷؍ جولائی ۱۹۱۱ء (البدر جلد۱۰ نمبر۳۹مؤرخہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۸،۹) نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے میموریل تعطیل جمعہ کے متعلق الحکم کی گذشتہ اشاعتوں میں لکھا گیا ہے۔میں نے اس میں ایک میموریل کی تجویز پیش کی تھی خدا کا شکر ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح مد ظلہ العالی کے دل میں بھی اس تحریک کو اللہ تعالیٰ نے ڈال دیا اور آپؓ نے مندرجہ ذیل اعلان اس غرض سے لکھا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیحؓ نے صرف دو گھنٹہ کی رخصت کی درخواست کی ہے۔میں اس پر کچھ اضافہ کرنا تقدم علی الامام سمجھتا ہوں۔یہ ایسی سہل تجویز ہے کہ اس پر بدوں کسی ہرج کے عملدرآمد ہو سکتا ہے دوسرے اسلامی جرائد سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس پر بالاتفاق تائیدی مضامین لکھیں گے اور ایسا ہی انجمنیں اپنے ریزولیوشن اس تحریک کی تائید میں پاس کر کے اس کو مضبوط بنائیں گے۔ایڈیٹر الحکم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم شہنشاہ جارج پنجم شاہ برطانیہ و قیصر ہند کے دربار تاجپوشی کا عظیم الشان دربار جو ۱۲؍دسمبر کو ہندوستان کے شاہان اسلامی کے قدیم دارالخلافہ میں منعقد ہونے والا ہے وہ تاریخ ہندوستان میں ایک ایسا اہم واقعہ ہے کہ اس کے متعلق طبائع میں عجیب ولولے پیدا ہورہے ہیں۔ہندوستان کو صدیوں کے بعد یہ عزت نصیب ہوگی کہ اس کا شہنشاہ اس کے قدیم دارالخلافہ میں تخت نشین ہوگا اور شہنشاہ بھی ایسا کہ اپنی وسعتِ مملکت کے لحاظ سے نہ اس زمانہ میں اور نہ کسی پرانے زمانہ میں اپنی نظیر نہیں رکھتا۔پس یہ لازمی امر تھا کہ ایسے عظیم الشان اور مبارک موقع پر طرح طرح کی امنگیں طبائع میں پیدا ہوتیں اور خصوصاً