ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 399
؍ جون ۱۹۱۱ء قرآنی محاورہ میں روح سے مراد فرمایا۔قرآن مجید کے محاورے میں روح سے مراد کلام الٰہی ہے۔زندہ وہی ہے جو کلام الٰہی سے زندہ ہے باقی سب لوگ مردے ہیں۔معبود کے لیے تین ضروری باتیں فرمایا۔معبود کے لیے تین باتوں کا ہونا ضروری ہے۔(۱)اس کا حکم مانا جائے۔کامل محبت اس سے ہو۔ایسی محبت اور کسی سے نہ ہو۔کامل تعظیم۔ایسی تعظیم اور کسی کی نہ ہو۔کامل تذلل اس کے حضور میں کیا جائے۔خدا کے علم و قدرت کا مطالعہ فرمایا۔مومن کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے علم و قدرت، دو جہانوں کا مطالعہ بہت کرے تا فرمانبرداری اور ایمان میں ترقی ہو۔خدا کی امتیازی شان فرمایا۔تمام معبودان باطل میں دیکھو خدا کے پایہ کی کوئی چیز نہیں۔بلکہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اسے بھی اسی معبود حق نے پیدا کیا ہے۔نئی سواریوں کی قرآنی پیشگوئی فرمایا۔(النحل:۹) میں ۱۳۰۰ سو برس پہلے بعض نئی سواریوں کی پیشگوئی موجود ہے۔اور آج ہم بگھیاں، موٹرکار، ہوائی جہاز، ریل دیکھ رہے ہیں۔میانہ روی اختیار کرو فرمایا۔(النحل:۱۰) کے معنے ہیں خدا تک پہنچنے کے لیے وہ راہ کام آئے گی جو میانہ روی کی ہے۔بہت کھانا بھی منع اور بالکل نہ کھانا بھی ٹھیک نہیں۔ہر وقت خوراک، پوشاک، مکان کی فکر منع ہے اور ننگے رہنا، مکان کا بالکل فکر نہ کرنا یہ بھی درست نہیں۔ہر چیز میں میانہ روی اختیار کرو۔مال کی محبت میں، اولاد کی محبت میں، کھانے کی محبت میں، بغض و عداوت میں لوگ بڑھ جاتے ہیں۔میانہ روی چاہئے۔(البدر جلد۱۰ نمبر۳۷،۳۸ مؤرخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۳)