ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 398
پڑھتا ہوں نئے ہی علوم کھلے ہیں۔میں نے ایک دفعہ نابھہ میں وعظ کرتے ہوئے معلوم کیا کہ صرف الحمد سے تمام مذاہب باطلہ کا رد ہوسکتا ہے۔جامع لفظ فرمایا۔فصحاء کے کلام میں ایک ایسا جامع لفظ لایا جاتا ہے جو کئی پہلوؤں کو شامل ہوتا ہے۔مثلاً قرآن میں دابر آیا ہے۔دابر کہتے ہیں مدبر اور اوّل اور آخر کو۔یہاں سب معنے مراد ہیں۔مقتسمین کے مختلف معانی فرمایا۔(الحجر:۹۱)میں مُقْتَسِمِیْنَ کے کئی معنے ہیں۔(۱) بعض مسلمان ایسے ہیں کہ بعض حصہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں بعض سے انکار۔مثلاً نماز پڑھیں گے مگر عورتوں کو حصہ دینے کے متعلق اگر کہا جائے تو کہتے ہیں ہمارا رواج نہیں۔ایسا ہی بعض کفار ہیں وہ بھی قرآن کا کچھ حصہ مانتے ہیں۔مثلاً سچ بولنا، جھوٹ کو براجاننا، چوری نہ کرنا، زنا نہ کرنا۔(۲)وہ لوگ جنہوں نے قتل النبی کی قسمیں کھائیں۔(۳) جنہوں نے رستے بانٹ رکھے ہیں کہ آنے جانے والے کو جناب نبوی سے منع کریں گے۔(۴) وہ لوگ جو سیدھی سادی بات میں چھیڑ کی راہ نکال لیتے ہیں تاکہ قوم کے دو فریق ہوجائیں۔ایسے لوگ بہت فتنہ انگیز ہوتے ہیں۔مخالفین کی شرارتوں پر صبر، تسبیح و تحمید اور دعا کی تلقین فرمایا۔بعض احمدی مخالفین کی شرارتوں سے گھبرا جاتے ہیں۔انہیں چاہئے کہ صبر سے کام لیں اور تسبیح و تحمید اور عبادت الٰہی بالخصوص سجدوں میں پڑ پڑ کے دعائیں کرنے میں لگے رہیں۔یہ بات اس سے استنباط کی ہے۔(الحجر:۹۸،۹۹) فرمایا۔نافرمانی نہ کرو۔تفرقہ نہ ڈالو۔گلہ اور گستاخیاں چھوڑ دو۔استغفار، لاحول، تسبیح، تمجید اپنا ورد بناؤ۔