ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 391
خدا کی برکات نازل ہوں۔مکانوں کے بنانے میں خدا کی فرمانبرداری مدّنظر ہو صالح اولاد عطا ہو۔(البدر جلد۱۰ نمبر۳۶ مؤرخہ ۶؍ جوالائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۲) ایوان خلافت حضرت خلیفۃ المسیح مدّ ظلہ العالی کے زخم کی حالت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ نہ پورا تندرست ہے اور نہ کہہ سکتے ہیں کہ ابھی باقی ہے۔کبھی کچھ اس میں سے نکل آتا ہے اور بعض اوقات کچھ برآمد نہیںہوتا۔بہرحال اس کا بقیہ ہے ضرور۔اور اس کی و جہ سے طبیعت میں عام ضعف محسوس ہوتا رہتا ہے۔اگرچہ آپؓ صبح سے شام تک برابر اپنے ان تمام مشاغل میں مصروف رہتے ہیں جو اس سے پہلے آپ رکھتے تھے لیکن پھر بھی یہی فرماتے ہیںکہ ضعف بہت ہے! نماز بیٹھ کر پڑھتے ہیں اور سجدہ نہیں کرسکتے۔احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان تمام شکایات کو دور کردے۔(آمین) قرآن مجید کے حل کا گُر ناظرین پچھلی اشاعت میں پڑھ چکے ہیں کہ میں نے حضرت صاحب سے بعض امور دریافت کیے تھے۔ان میں سے ایک کا ذکر میں پہلے کرچکا ہوں دوسرا سوال میرا یہ تھا کہ ’’کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی آیت کبھی پوچھی ہے اور اگر پوچھی ہے تو کونسی؟‘‘آپ نے اس کے جواب میں فرمایاکہ میں نے قرآن مجید کی کوئی خاص آیت حضرت صاحب سے نہیں پوچھی بلکہ ایک ایسا گُر پوچھا ہے جس سے قرآن مجید کی کوئی آیت بھی مشکل نہ رہے۔میں ایک مرتبہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں ان ایام میں فصل الخطاب لکھ رہا تھا۔میں نے عرض کیاکہ بعض اوقات مخالفین اسلام ایسا اعتراض کرتے ہیں کہ اس کا تحقیقی جواب سمجھ میں نہیں آتا۔میرا خیال ہے کہ یا تو ایسے اعتراضات کو چھوڑ دیا جاوے اور یا ان کا الزامی جواب دے دیا جاوے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں تو اس کو سخت ناپسند کرتا ہوں۔جس چیز کو انسان کا ایمان خود نہیں مانتا پھر وہ دوسروں سے منوانے کا کیا حق رکھتا ہے؟