ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 383 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 383

ہیں۔ایک استاد تھے ان کے شاگرد بڑے آسودہ حال ان میں کمپیٹیشن رہتا۔ہم استاد جی کو حلوا کھلائیں گے۔دوسرا کہتا ہم پلاؤ کھلائیں گے اور وہ اللہ تعالیٰ رحم کرے ایسی طبیعت کے تھے کہ تنہائی میں خوب کھاتے اور پھر قے کر کے جو باقی ہوتا وہ بھی چٹ کر جاتے۔پوچھنے پر فرماتے کیا کہوں پلاؤ بڑا مزیدار تھا چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔(۵) بعض لوگ ایسے ہیں کہ دل بہلانے کے لئے عمر بھر سیر وسیاحت میں گذار دیتے ہیں آج امرتسر کے ہوٹل میں ہیں تو کل پشاور کی سرائے میں۔غرض لوگ کچھ نہ کچھ اپنا شغل ضرور رکھتے ہیں جن لوگوں کو فقیری کا شوق ہے وہ بھی عجیب عجیب کام کرتے ہیں۔میں نے ایک شخص کو دیکھا ہے کہ پاؤں میں اڑھائی تین من کی زنجیر ہے اور وہ کھڑے سورج کو دیکھ رہے ہیں ان لوگوں کی کتابوں کو بھی پڑھا ہے ان میں ایسی ایسی حکائتیں بھی دیکھیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم جب معراج کو گئے تو رستے میں ایک پہاڑ آگیا رستہ مسدود تھا جبرائیل کے مشورے سے بھنگڑ فقیروں کی امداد کی ضرورت پڑی انہوں نے بھنگ گھوٹ کر پہاڑ کو جو اس کا لُگدا مارا اور دم شاہ مدار کہا تو رستہ کھل گیا۔ایک بڑے امیر کبیر کو میں نے دیکھا کہ وہ ایک دھات کے سانپ کے آگے ناچا کرتا تھا ایک دفعہ میں اس کمرے میں چلا گیا اس سانپ کو جو ٹھکرایا۔بڑی آواز نکلی وہ دوڑا دوڑا آیا اور رام رام کرنے لگا اس کی حماقت پرمجھے بڑا تعجب آیا۔(۶)کئی دوکانداروں کو دیکھتا ہوں کہ دن بھر بیٹھنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا دروازے کے ساتھ ایک زنجیر باندھ رکھی ہے اور اسے پکڑ کر کھڑے ہیں اور خوش ہیں کہ گاہک بہت آتے ہیں۔(۷)کاپی نویس سارا دن اس طرح بیٹھا رہتا ہے جیسے مرغی انڈوں پر۔اور اسی میں خوش ہے۔مجھے بھی امام ویردی کی شاگردی کا موقع ملا۔مگر میرے ہاتھوں میں صنعت کم ہے۔صرف ا ب ج د ر یہ چاروںحروف سیکھے۔جب انبیاء آتے ہیں تو لوگوں کو ایسے شغلوں میں پاتے ہیں ان کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ