ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 375 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 375

میرے پر ڈال دیا جاوے پھر جو قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میںفدا کرنے کے لیے طیار ہوں۔دعا فرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔اس مکتوب پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو ریمارک فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ مولوی صاحب ممدوح کا صدق اور ہمت اور ان کی غمخواری اور جانثاری جیسے ان کے قال سے ظاہر ہے اس سے بڑھ کر ان کے حال سے ان کی مخلصانہ خدمتوں سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہ محبت اور اخلاص کے جذبہ کاملہ سے چاہتے ہیں کہ سب کچھ یہاں تک کہ اپنے عیال کی زندگی بسر کرنے کی ضروری چیزیںبھی اس راہ میںفدا کردیں۔ان کی روح محبت کے جوش اور مستی سے ان کی طاقت سے زیادہ قدم بڑھانے کی تعلیم دے رہی ہے اور ہردم اور ہر آن خدمت میںلگے ہوئے ہیں۔(ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد۱۵ نمبر۲۱و۲۲ مؤرخہ ۷ و ۱۴؍ جون ۱۹۱۱ء صفحہ ۴،۵) ۷؍جون ۱۹۱۱ء (بدھ) صبرکی دو اقسام (الرعد:۲۵)۔فرمایا صبر دو قسم ہے۔(۱) صَبْرٌ عَلٰی الْاِطَاعَۃِیعنی اطاعت الٰہی پر استقلال سے مداومت۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں اَحَبُّ الْاَعْمَالُ اِلَی اللّٰہِ اَدُوْمُھَا۔بہت پسندیدہ عمل بارگاہ ایزدی میں وہی ہے جس میں مداومت ہے۔(۲) صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ۔بدی سے باوجود بدی کے اسباب بہم پہنچانے کے رکے رہنا۔اقامت صلوٰۃ اَقَامُوا الصَّلٰوۃ۔وقت پر، ٹھہر کر، خشوع و خضوع سے، جماعت کے ساتھ پڑھنا اقامت صلوٰۃ ہے۔عمدہ تدبیر سے بدیوں کو دفع کرنا مومن کا فرض ہے (الرعد:۲۳)۔بدیاںانسان کے اندر ہوں یا بیوی بچوں میں یا محلہ میں یا شہر میں یا ملک میں سب کو کسی عمدہ تدبیر سے دفع کرنے کی کوشش کرنا مومن کا فرض ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے اخلاق کو