ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 371 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 371

ہمیشہ خوش رہتا ہوں بعض خدام نے مزاج کا حال دریافت کیا۔فرمایا کہ میں اپنے آپ میں ہمیشہ خوش رہتا ہوں۔بخار ہو، قے ہو، زخم ہو، درد ہو، کوئی حالت ہو میں اپنے خدا تعالیٰ کو ہر وقت اور ہر حالت میں اپنے اوپر فضل کی بارش کرنے والا پاتا ہوں۔میرے دل میں بڑی خوشی اور بڑا سرور ہر حالت میں رہتا ہے۔پہلے میںبیس روپے (بیس)ماہوار کا ملازم ہوا۔پھر ڈیڑھ سو روپے ماہوار کا ملازم ہوا۔بعد ایک سو ساٹھ کا اور اس کے بعد دو سو کا۔پھر سات سو کا ملازم ہوا۔ہر حالت میں یہی ایک سا لباس رہا ہے جو اب ہے ایسی ہی روٹی کھاتا ہوں جیسی اب۔عبد الحی کے لیکچر پر اظہار مسرت اسی حالت میں اکبر شاہ خان صاحب نے موقع پا کر عرض کیا کہ حضور آج برادرم عبد الحی نے تقویٰ پر لیکچر دیا اور بہت اچھا لیکچر دیا۔یہ سن کر یکلخت بشاشت کے آثار نمایاں ہوئے یا تو لیٹے ہوئے تھے فوراً بیٹھ گئے اور شکر کا سجدہ کیا اور سجدہ میں دیر تک دعائیں کرتے رہے اور کئی گھنٹے تک مختلف قسم کی باتیں کرتے رہے۔خود ہی فرمایا کہ مجھ کو اس قدر ضعف ہے کہ میں بیٹھ نہیں سکتا۔لیکن اکبر شاہ خان نے مجھ کو ایسی بات سنائی کہ میں خوشی کے سبب بیٹھا ہوں۔اردو زبان کی خوبی اکبر شاہ خان صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اردو زبان میں یہ خوبی ہے کہ فارسی عربی الفاظ بکثرت اس زبان میں ہی استعمال ہوتے ہیں وہ یاد ہو جاتے ہیں اور ان کا صحیح تلفظ آ جاتا ہے۔ورنہ ایک مولوی صاحب جو خوب عربی کتابیں پڑھے ہوئے ہیں عربی پڑھتے ہیں اور بہت ہی غلط الفاظ ان کی زبان سے نکلتے ہیں۔اکبر شاہ خان صاحب سے فرمایا کہ تم عبد الحی کو اردو بولنا سکھاؤ اور اُس کے تلفظ کو ٹھیک کراؤ۔اردو کا تلفظ صحیح تو بڑی نعمت ہے۔