ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 370
عورتوں کی مناسبِ حال وعظ کی ہدایت پھر حکم دیا کھانے کے واسطے کھانا حاضر کیا گیا۔ادھر سے شیخ غلام احمد واعظ تشریف لائے۔عورتوں کو وعظ کے واسطے انہوں نے وعظ کو شروع کیا۔فرمایا کہ شیخ صاحب کو کہو کہ جھوٹ، چغلی، طمع اور ایک اور فرمایا جو میں بھول گیا کہ یہ عورتوں میں بہت ہے اس کے بارے میں کچھ کہو۔آنحضرتؐ کی سادگی کھانے سے پہلے قاضی امیر حسین صاحب بھی تشریف رکھتے تھے۔فرمایا کہ قاضی صاحب! آپ نے کبھی کسی حدیث میں نبی کریمؐ کی گرم پانی کے لئے فرمائش کرنا پڑھا ہے۔قاضی صاحب نے فرمایا کہ نہیں۔پھر فرمایا کہ میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ آپؐ (نے) کھانے کے لئے یا پہننے کے لئے یا نہانے کے لئے کہا ہو کہ یہ ہمارے لئے تیار کرو۔آنحضرتؐ کا کدو پسند فرمانا پھر کدو کا ذکر ہوا بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریمؐ کو کدو سے محبت تھی آپؐنے گوشت نہیں کھایا۔فرمایاکہ میرا خیال ہے کہ نبی کریمؐ کی دعوت کی گئی جس میں کچا گوشت تھا آپؐ نے وہ چھوڑ دیا۔پھر شیخ اسمٰعیل صاحب نے پوچھا کہ حضرت ہماری طرف کہتے ہیں کہ اس کو کندھے سے اوپر اٹھا کر لایا کرو کیونکہ نبی کریم کو اس سے محبت ہے۔تو آپؓ نے پھر اپنے پہلے جواب کو دہرایا۔پھر کھانا کھا کے فرمایا کہ عشاء کو ضائع مت کرو۔جاؤ مجھ پر بوجھ مت ڈالو۔پھر نہ کہنا کہ تمہارے پاس بیٹھے ہوئے وقت چلا گیا تھا۔کہا گیا کہ اذان نہیں ہوئی۔کہا۔پہلے جانا سنت ہے اس کو پورا کرو۔