ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 354
صاحب کو بھی دیکھتے آنا کیسے آدمی ہیں۔میں جب دہلی گیا تو شاہ صاحب کی خدمت میں ایک دن حاضر ہوا مگر کچھ بات کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔دوسرے دن بھی حاضر ہوا مگر اسی طرح چپ چاپ بیٹھ کر چلا آیا میں ڈرتا تھا کہ ریختہ اردو بولنے میں غلطی کھاؤں گا اور شرمندہ ہوں گا۔جب تیسرے دن گیا تو پھر شاہ صاحب نے خود ہی پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے کہا کہ لکھنؤ سے۔فرمایا۔وہاں آپ کس جگہ رہتے ہیں۔میں نے اس محلہ کا پتہ دیا جہاں پل کے پاس میں رہتا تھا تو فرمایا۔ہاں آپ چاند پور سے آئے ہیں۔میں نے عرض کی کہ نہیں میں چاند پور سے نہیں آیا لکھنؤ سے آیا ہوں۔پھر فرمایا کس جگہ؟ میں نے پھر وہی پل والا پتہ دیا تو فرمایا۔ہاں میں سمجھ گیا ہوں آپ چاند پور سے آئے ہیں۔ایسا ہی میں نے تین دفعہ بتلایا اور تینوں دفعہ انہوں نے کہا کہ چاند پور۔میں حیران ہی رہا کہ یہ عجیب آدمی ہیں میں لکھنؤ کہتا ہوں اور یہ چاند پور ہی کہتے چلے جاتے ہیں۔اس کے بعد میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ سنی شیعہ کا جو جھگڑا ہے اس کا فیصلہ کیوں کر ہے؟ فرمایا کہ تم قرآن شریف پڑھو اسی سے سب فیصلہ ہو جاتا ہے۔میں نے عرض کی کہ میں عربی نہیں جانتا۔فرمایا۔ہمارے شاہ رفیع الدین صاحب نے قرآن شریف کا ترجمہ لفظی کر دیا ہے ہر لفظ کا ترجمہ اس کے نیچے لکھ دیا ہے اس کو پڑھو اور سمجھو سب فیصلہ معلوم ہو جائے گا۔جب میں واپس لکھنؤ آیا تو نواب صاحب سے ذکر آیا۔وہ نواب عالی دماغ تھے انہوں نے جھٹ تحقیقات شروع کی۔آخر ثابت ہوا کہ جہاں میں رہتا تھا وہاں پہلے ایک گاؤں چاند پور نام تھا۔نواب نے مجھے بہت ہی نادم کیا کہ تم لکھنؤ کی ناک کاٹ آئے تمہیں اپنے گھر کی بھی خبر نہیں اور شاہ صاحب پر اعتراض کرنے لگے۔میں بہت شرمندہ ہوا۔تب مجھے خیال آیا کہ ان کی ایک بات تو سچی نکلی، آؤ دوسری کو بھی آزمائیں۔قرآن شریف لے کر پڑھنے لگا اسی سے مجھے سمجھ آ گیا کہ حق کس طرف ہے۔چپ نہ ہونے والے ابن خزر جو مولوی ثناء اللہ صاحب کا کچھ ذکر تھا۔فرمایا۔بعض قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ ان کو کسی طرح چپ نہیں کرا سکتے۔ایسوں کو کچھ سمجھانا بے سود