ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 350 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 350

معاشرتی رسوم اور ان کے بد نتائج ایک دوست کا خط آیا کہ میں اپنے بچہ کا ختنہ کرانا چاہتا ہوں۔ہماری قوم میں اس کے متعلق بعض بہت بڑی بڑی رسمیں ہیں۔حضور کوئی ایسی ہدایت فرماویں کہ جس سے ان رسوم کی پابندی ٹوٹ جاوے۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔میں اَور کوئی دستور العمل قائم کرنا نہیں چاہتا۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو حکم ہے وہ تو اس سے زیادہ نہیں کہ ختنہ میں جو چمڑا کاٹنے کے لائق ہے وہ کاٹ دیا جاوے اور کوئی بات اس موقع پر ثابت نہیں جس کا میں حکم دوں۔فرمایا۔ختنہ کی رسوم کا ایک نتیجہ میں نے خود دیکھا ہے کہ ایک وقت مالیر کوٹلہ میں ایک قوم نے اخراجات رسوم کے میسّر نہ ہونے کی وجہ سے ختنہ کرنا ترک کر دیا تھا۔پہلے ایک شخص نے اخراجات کے نہ ہونے کی وجہ سے ختنہ نہ کرایا اور پھر آہستہ آہستہ قوم کے اور لوگوں نے بھی اسی کی تقلید کی۔آخر ان کے ایک مجتہد کو ان سب کا ختنہ کرنا پڑا۔درمیان میں ایک اور دوست نے ذکر کیا کہ ایک قوم کے بعض آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ہماری برادری کے ہمیشہ دو حصے رہتے ہیں اور ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ ساری برادری کا اتفاق نہ ہو جائے بلکہ اگر کوئی موقع شادی غمی کا آ جاوے تو کثیر اخراجات کے خوف سے عمدًا (اتفاق ہو تو) ایک حصہ برادری سے پھوٹ کر لینی پڑتی ہے۔حضور نے فرمایا کہ ایک دفعہ میرے نہایت قریبی رشتہ کے گھر میں ایک موقع شادی کا تھا۔انہوں نے ادائے رسوم کا خیال کیا تو میں نے کہہ دیا اگر ایسا کرو گے تو میں کبھی شریک نہ ہوں گا۔انہوں نے جب نہ مانا تو میں نے اتنے روز ان کا کھانا بھی چھوڑ دیا اور گھر میں میری بیوی الگ کھانا پکاتی تھی۔اس موقع پر میری مخالفت ہوئی مگر بعد میں میں نے دیکھا کہ وہ تمام برادریاں جن کی خاطر رسمیں ادا ہوئی تھیں سب کی سب ٹوٹ پھوٹ گئیں اور ان رسموں نے کچھ بھی نہ سنوارا۔فرمایا۔ایک بہت بڑا آدمی تھا اس کی لڑکی کے ناطہ کے لئے بیسیوں پیغام ہوئے وہ سب کی