ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 338
کے اندر کیا روح پیدا کرنا چاہتے ہیں۔آپ کی غرض یہ ہے کہ جماعت سعی فی الدین کرے وہ دعاؤں سے کام لے اور اس کے لئے تحریک اسی وقت ہوتی ہے جب امتیاز ہو۔غرض فرمایا۔اشتراک کا ہم نے فیصلہ کر دیا ہے۔(اس فیصلہ کا اظہار عنقریب ہو گا) مشترک امور میں مل کر کام کرنا ضرور ہے لیکن امتیاز قائم رکھنا بھی ضرور ہے۔اس کے لئے چار وجوہ ہیں۔(۱) امتیاز ترقی کا موجب ہوتا ہے۔امتیاز نہ رہے تو قوم گھل مل کر تباہ ہو جاتی ہے۔(۲) اگر کسی کے ماں باپ یا زمین کا مقدمہ کسی امام مسجد کے ساتھ ہو تو لوگوں کا دستور ہے کہ اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔پس جب ہمارے مامور من اللہ کو یہ لوگ جھوٹا سمجھتے ہیں تو ہماری غیرت کس طرح برداشت کر سکتی ہے کہ ان کو اپنا امام صلوٰۃ بنا لیں۔(۳) جب تک تمیز نہ ہو نہ امر بالمعروف ہی رہتا ہے نہ نہی عن المنکر۔تمہارے لیکچروں کی عزت بھی احمدی نام سے ہی ہوئی ہے۔(۴) خود نام رکھنا ہی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔(۵) جب کوئی قوم ممتاز ہوتی ہے تو قوم اس کی مخالفت کرتی ہے۔پھر جوں جوں مخالفت ہوتی ہے اس ممتاز بننے والے کو سعی اور دعا کا موقعہ ملتا ہے۔یاد رکھو جب تک مشکلات پیش نہ آویں، دعا اور کوشش کا موقعہ نہ ملے ترقی نہیں ہو سکتی۔سعی، کوشش، جہاد، دعا کے لئے مشکلات ضرور ہیں۔صلح کُل میں نہیں ہو سکتا۔(ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد ۱۵ نمبر ۹ مؤرخہ ۷؍ مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ۲ ۱) (البدر جلد ۱۰ نمبر ۱۸ مورخہ ۱۸ مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ ۱) اعلان ضروری بہ تعلق تکمیل تجویز محمڈن یونیورسٹی چونکہ اس وقت ایک عام تحریک ایک اسلامی یونیورسٹی کے ہندوستان میں قائم کرنے کے لئے ہو رہی ہے اور بعض احباب نے یہ دریافت کیا ہے کہ اس چندہ میں ہمیں بھی شامل ہونا چاہیئے یا نہیں۔اس لئے ان سب احباب کی اطلاع کے لئے جو اس سلسلہ میں شامل ہیں یہ اعلان کیاجاتا ہے کہ اگرچہ