ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 322 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 322

خود دیکھے ہیں ایک شخص کو جو اس وقت زندہ موجود ہے اس کو میں نے دیکھا اس کا جسم خنزیر کا ہے۔ایک ہی وقت میں اس کا ظاہری جسم اور خنزیر والا جسم اپنے چار پیروں پر چلتا دیکھا ہے۔پہلے میں اس کو نیک آدمی سمجھا کرتا تھا یہ حالت دیکھ کر خیال بدل گیا۔بیماری کی حالت میں کلورو فارم سونگھانے سے جو بیہوشی ہوتی ہے اس میں اعصاب پر اثر پڑتا ہے اور احساس کا مادہ زائل ہو جاتا ہے اس لئے ان باطنی اجسام کو دیکھ نہیں سکتا۔مگر موت کی حالت جدا ہوتی ہے۔اہل کشف لوگوں نے کسی شخص کی موت کے وقت ایسا جسم نکلتا مشاہدہ کیا ہے۔مگر جب یہ نظارے خدا دکھاتا ہے تو ایسے لوگوں میں ستاری کی شان بھی رکھ دیتا ہے پھر وہ میت کا پردہ فاش نہیں کرتے۔ہر ایک کے جسم کی حالت جدا ہی دیکھی ہے اگر سناؤں تو بڑا وقت چاہتا ہے۔خدا کی غریب نوازی اور رحمت بہت وسیع ہے وہ جس کو چاہے معاف کر دے۔اس لئے ان باتوں کو بتانے میں احتیاط لازم ہونی چاہئے۔طاقت کی دعا کی تحریک فرمایا۔صحت کی دعائیں تو بہت ہوئی ہیں اور صحت الحمد للہ حاصل ہوئی۔صحت کی دعا کے ساتھ طاقت کی دعا بھی ہونی چاہئے۔(البدر جلد ۱۰ نمبر ۱۷ مؤرخہ ۲۳؍ فروری ۱۹۱۱ء صفحہ ۱) بیماری سے منشاء الٰہی اور فوائد ۲۵؍ فروری ۱۹۱۱ء کو قبل عصر خاکسار ایڈیٹر الحکم نے عرض کی کہ آپ نے او ائل علالت کے ایام میں فرمایا تھا کہ اس بیماری سے جو منشاء الٰہی ہے اور جو فوائد ہیں وہ توفیق ملی تو بیان کروں گا۔اب تو خدا کے فضل سے حضور کی طبیعت اچھی ہے تھوڑا تھوڑا اگر آپ لکھا دیں تو بہت اچھا ہو۔فرمایا۔ہاں اللہ تعالیٰ کے فضل پر ہی سب کچھ موقوف ہے جب وہ توفیق دے گا تو لکھے جائیں گے۔بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ جماعت میں دعا کے لئے توجہ پیدا ہو گئی اور دعا ہی بڑی ضروری چیز ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ عبد الحکیم ایک طرف تو پیشگوئی موت کرتا ہے اور دوسری طرف اسی رات کو جو میری موت کے لئے مقرر کرتا ہے خدا تعالیٰ سے میرے لئے دعا کی طرف پھیر دیتا ہے۔یہ تعجب کی بات ہے۔