ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 312
ساتھ کس قسم کے لوگ شامل ہیں۔امرا کس کے ساتھ ہیں اور کس سے الگ رہتے ہیں۔اس پر اسے سخت حیرت ہوئی اور خاموش ہو گیا۔کہنے کو یہ ایک فقرہ ہے مگر اس کے اندر ایک لطیف اصول صادقوں کی شناخت کے لئے بتایا گیا ہے کہ جب کوئی مامور دنیا میں آتا ہے تو اوّلاً اس کو قبول کرنے والے غربا اور ضعفاء ہوتے ہیں۔اور جو رؤسا اور امرا ہوتے ہیں وہ ان سے الگ رہتے ہیں۔اس میں بھی ایک لطیف سِرّ ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت نمائی کا کرشمہ نظر آتا ہے۔اس حالت بے کسی اور بے سرو سامانی میں وہ بندہ خدا اپنی کامیابی اور مخالفین حق کی نامرادی کی عجیب پُرشوکت پیشگوئیاں کرتا ہے اور تمام طاقتیں اس کی ہستی کو مٹانے کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔اس وقت کوئی شخص بھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ یہ کامیاب ہو سکتا ہے۔لیکن آخر اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرتیں اس کے شامل حال ہوتی ہیں اور وہ بے کس، بے زر، بے زور انسان جس کے ساتھ بالکل غریب اور کس مپرس ہوتے ہیں کامیاب ہو جاتا ہے۔تب صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کسی انسانی ہستی کا کام نہیں بلکہ صاف تائید ایزدی ہے۔علاوہ بریں اگر اوّلاً بڑے بڑے آدمی شامل ہو جائیں تو اس راستباز کی شاندار کامیابی کا زمانہ آوے تو اس کی صداقت مشتبہ ہو سکتی ہے۔لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ان مدبروں اور مالداروں کی کوشش اور تائید سے وہ کامگار ہوا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سنّت رکھی ہے کہ جب کوئی مامور دنیا میں آتا ہے تو اوّلاً اس کے ساتھ نہایت غریب اور ضعیف لوگ شامل ہوتے ہیں تا کہ قدرت ربّانی صاف صاف نظر آوے۔اس طرح پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابتداً غربا ہی نے قبول کیا۔کلام کو سمجھنے کا ملکہ حضرت خلیفۃ المسیح کو اللہ تعالیٰ نے ایک غور کن دل و دماغ عطا فرمایا ہے اور آپ ہر معاملہ کے باریک در باریک حصص پر غور کرنے کے عادی ہیں اور اسی لئے بعض وقت جب حضرت کسی شخص کی تحریر سے کوئی نتیجہ نکال کر پیش کرتے ہیں اور وہ کہا کرتا ہے کہ حضور میرا مطلب یہ نہیں تو تحدیث بالنعمت کے طور پر فرمایا کرتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ کی کلام کو تو اس کے فضل سے سمجھ لیتا ہوں تو کیا انسانی کلام نہیں سمجھ سکتا؟