ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 311
اور نازل ہوئیں تو آپ نے معوذتین کے سوا سب چھوڑ دیئے۔پھر فرمایا۔اس وقت اتنی ہی برداشت ہے زندہ رہا تو کل کچھ اور کہوں گا۔اور صبح فرمایا۔سورۃ اعراف کے اخیر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (الاعراف:۲۰۴،۲۰۵)اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) تو کہہ میں اس وحی قرآن کے سوائے اور کسی چیز کی پیروی نہیں کرتا۔یہی لوگوں کے واسطے بصیرت تھی۔مومنوں کے واسطے تو ہدایت اور رحمت یہ ہے ہی، اگر کافر بھی مان لیں تو ان پر بھی رحمت ہو گی۔معیار صادق حضرت خلیفۃ المسیح (ایدہ اللہ بنصرہ) اپنی جگہ بعض عجیب عجیب گُر قائم کرتے ہیں۔اور ایسے گُر ہمیشہ قرآن مجید سے استنباط فرمایا کرتے ہیں کیونکہ قرآن مجید سے آپ کو عہد طفلی سے محبت ہے۔بلکہ یوں کہنا چاہئے عہد تو دارم ازاں روزے کہ بودم شیر خوار کیونکہ قرآن مجید آپ نے اپنی والدہ کی گودی میں پڑھا ہے۔۲۸؍ دسمبر ۱۹۱۰ء کو میں آپ کی صحبت میں سعادت اندوز تھا آپ نے فرمایا۔ایک شخص مولوی ریاض الدین احمد میرے پاس آئے۔وہ بڑے ہوشیار اور مدبر ہیں۔انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ مرزا صاحب، کشیب چندر سین، سر سید اور پنڈت دیانند یہ بڑے آدمی اس وقت ہیں اور سب نے اپنے ساتھ ایک جماعت بنائی ہے۔پھر کیونکر سمجھا جائے کہ مرزا صاحب راستباز تھے اور خدا کی طرف سے تھے اور باقی نہ تھے۔میںنے اس کو کہا کہ میں ایک گُر بتاتا ہوں جو بہت صاف ہے قرآن میں لکھا ہے۔(الانعام:۱۲۴) یعنی جو لوگ بڑے ہوتے ہیں وہ مامورین سے قطع تعلق کر لیتے ہیں اور الگ رہتے ہیں۔اب تم بتاؤ کہ ان میں سے ہر ایک کے