ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 309
اس پر میں نے عرض کیا کہ حضرت طبیب ہیں میری یہ قوت تخیلی اخبار ہی سے بڑھتی ہے۔اس سے پہلے ایک مرتبہ اوائل خلافت میں حضور نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ میں اخبار کو کبھی نہ چھوڑوں گا۔اب اگر یہی میری قوت تخیلی کوبڑھانے والا ہے تو پھر اجازت دیں کہ میں اسے بند کر دوں۔فرمایا۔ہر گز نہیں تم اس فن کو خوب سمجھتے ہو اور یہاں جو لوگ اس کام کو کرتے ہیں ان سے بہتر ہو۔میں یہ اجازت نہیں دیتا یہی کام کرو بس قوت تخیلی کو بڑھنے نہ دو۔میں نے علاج اور اسباب سب کچھ بتا دیا ہے تم سمجھ سکتے ہو۔صدقات کی طرف توجہ میں نے قریبًا ہر اخبار میں لکھا ہے کہ ان ایام میں حضرت کو صدقات کی طرف بڑی توجہ ہے۔موضع ننگل قادیان کے قریب جو اسی کا دراصل ایک پرانا حصہ ہے وہاں طاعون کی کوئی واردات ہو گئی۔اس کی اطلاع ملی تو فرمایا۔جماعت کو تاکید کر دو کہ دعاؤں میں لگ جاوے اور استغفار کریں اور صدقات دیں۔ہر شخص کچھ نہ کچھ صدقہ ضرور دے۔چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں حضرت میر ناصر نواب صاحب نے احباب کو صدقات کی طرف متوجہ کیا اور قریبًا کل دوستوں سے جو یہاں رہتے ہیں صدقہ کی ایک رقم جمع کر کے قربانی کی اور غربا اور مساکین کو کھانا کھلایا۔تعلیمِ سلوک تعلیمِ سلوک جو میں نیچے درج کرتا ہوں جو ۳۰؍ جنوری ۱۹۱۱ء کی شام کو ایک مخلص دوست کو حضرت نے لکھائی ہے۔بہت سے لوگ وظائف اور اوراد کے مشاغل میں مصروف اور منہمک ہوتے ہیں امید کی جاتی ہے کہ یہ سطور انشاء اللہ تعالیٰ ان کے لئے سلوک کی بہترین راہ بتانے والی ہوں گی۔بوقت شام ۳۰؍ جنوری ۱۹۱۱ء حضرت خلیفۃ المسیح نے مخدوم میاں محمد صدیق صاحب کو بلوایا اور فرمایا۔قلم دوات لاؤ میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں۔اس کو معمولی نہ سمجھیؤ یہ بہت بڑی بات بتاتا ہوں۔