ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 308 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 308

ایسا شعر کہہ گزرتے تھے کہ دوسرے وقت خود بھی اس کی سمجھ نہ آتی تھی۔مولوی فضل حق خیر آبادی نے ان کا دیوان ترتیب دیا۔مرزا غالب نے انہیں کہہ دیا تھا کہ جو تمہیں سمجھ آتا ہے اسی طرز پر ترتیب دے لو۔ایک مرتبہ یہ قوت تخیلی ان کی ایسی بڑھی کہ شاہزادہ جوان بخت کی شادی پر سہرا کہا اور اس میں بڑا دعویٰ کیا۔آخر ذوق نے مقابلہ کیا اور مرزا غالب کو مجبوراً عذر کرنا پڑا اور شرمندہ ہونا پڑا۔انشاء اللہ خان بھی بڑے پایہ کا شاعر تھا اور بڑا نازک خیال مگر آخر گمنامی کی زندگی میں جان دے دی۔یہ نتیجہ تھا قوت تخیلی کی ترقی کا۔فارسی میں حضرت امیر خسرو بڑے پایہ کے شاعر گزرے ہیں اور ان کی قوت تخیلی بھی بہت بڑھی ہوئی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت خواجہ نظام الدین علیہ الرحمۃ کی خلافت سے محروم رہے۔ایڈیٹروں کی بھی قوت تخیلی بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔جب قوت تخیلی کا زور ہو تو اسے علمی اور عملی قوتوں کے رنگ میں لانے کی کوشش اور دعا کرنی چاہئے۔عملی قوت انبیاء علیہم السلام کی بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کی عملی قوت ہی تو تھی جس نے اپنے مخالفین کو غرق کر دیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عملی قوت کا تماشا دیکھو کہ فرعون اور اس کی جماعت کو غرق کر دیا۔اعلیٰ درجہ کی چیز یہی ہے اور پھر اگر یہ نہ ہو تو علمی قوت کو بڑھانا چاہئے۔صرف تخیلی قوت کو بڑھنے نہیں دینا چاہئے۔جو لوگ قلم سے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور عملی رنگ پیدا نہیں کرتے وہ ناکام رہ جاتے ہیں۔تمام کامیابیاں عملی قوت سے پیدا ہوتی ہیں۔بیماری، افلاس اور مشکلات میں تخیلی قوت بڑھ جاتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض بعض وقت میری تخیلی قوت بڑی بڑھتی ہے مگر خدا کا فضل ہے کہ میں فوراً اس سے نکل جاتا ہوں۔تخیلی قوت کا ایک پولیٹیکل نظارہ یزید کے وقت میں نظر آتا ہے۔آج کوئی اپنا نام بھی یزید نہیں رکھتا اور اس کا ذکر کوئی خیر سے نہیں کرتا۔پس یاد رکھو کہ اس قوت کو بڑھنے نہیں دینا چاہئے۔اگر چاہو تو تم تخیلی قوت کے نہ بڑھانے پر میرے ہاتھ پر بیعت کر لو (عرض کیا کہ ابھی خدا کے فضل سے حاضر ہوں) تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔اس کو مت بڑھاؤ اور اس سے توبہ کرو۔