ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 28
رسول کے واسطے استغفار ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ حضرت مرزا صاحب تو رسول خدا تھے آیاآپ کے جنازہ میں مغفرت والی دعائیں پڑھی جاویںیا نہ کیونکہ استغفار کے معنے ہیں گزشتہ غلطیوں کے بدنتائج سے حفاظت اور آئندہ ان کے وقوع و ارتکاب سے حفاظت اور یہاں دونوں مفقود۔اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح مولوی حکیم نور الدین صاحب نے فرمایا کہ جنازہ میں مغفرت کی دعائیں پڑھنی چاہئیں کیونکہ کسی کا استغفار بہت سے پہلوئوں سے ہوتاہے کچھ اس کی ذات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور کچھ اہل وعیال اور متعلقین اور متبعین کے متعلق ہوتا ہے علاوہ اس کے ہر حصہ میںکامل ہونا تو عبودّیت کی شان کے بر خلاف ہے کامل طور پر سبوح و قدوس تو اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے باقی سب کو استغفار کی ضرورت ہے۔(البدر جلد۷ نمبر۳۶مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۱۱) طلباء مدرسہ کو زرّیں نصائح ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۸ء کو بعد نماز مغرب حضرت خلیفۃ المسیح نے طلباء مدرسہ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ہر ایک لچکدار اور نرم شے کے لئے بہت سے عجائبات ہوتے ہیں نرم چیز کو جس طرف چاہو پھیرو وہ پھر جاتی ہے اور جس شکل میں اُسے بنانا چاہو اسی شکل کو بہ آسانی اختیار کر لیتی ہے لیکن اس خوبی کے ساتھ اس میں ایک دقت بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو جلد کِرم کھا جاتا ہے اور اس طرح وہ ایک خطرہ میں ہے۔بچپن کے عالم کی مشابہت اسی نرم لکڑی کے ساتھ ہے۔بچہ کیسا ہی با اخلاق نیک لائق معلوم دے پھر بھی اس کی عمر ایک ناواقف، نا تجربہ کار، نا سمجھ اور ناعاقبت اندیش کی عمر ہے۔جب بڑا ہوگا تب ہی اس کو پورا تجربہ حاصل ہو گا۔مدرسہ کے چھوٹے بچوں میں بعض دفعہ ایک خفیف سی چوری کی عادت ہوجاتی ہے۔کسی کا نِب اٹھا لیا کسی کا قلم لے لیا۔یہ اگر چہ بہت چھوٹی سی بات ہے مگر اس کا نتیجہ دور تک