ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 27
اتفاق اور اختلاف (۱۴؍ستمبر رات)بورڈنگ کے بعض طلباء کو مخاطب فرما کر فرمایا کہ دنیا میں اختلاف ہے ہر ایک کا مذاق جدا جدا ہے۔مگر باوجود اس قدر اختلاف کے پھر بھی ان میں ایک وحدت ہے۔خدا تعالیٰ واحد ہے اس لئے وہ چاہتا ہے کہ وحدت پیدا ہو۔فرماتا ہے (اٰل عمران:۱۰۴) یعنی تم سب کے سب مل کر اللہ کے رسے کو مضبوط پکڑ لو۔تمہاری کھیل جو رسہ کھینچنے کی ہے اس سے مجھے یہ نکتہ سوجھا ہے کہ جیسے وہاں فریق مقابل کو زک دینے کے لئے ضروری ہے کہ سب کے سب یک دل ہو کر باوجود اختلاف قومی و خیالات زور لگاتے رہیں۔اسی طرح اللہ کے رسے کو جس سے مراد قرآن مجید ہے دوسری قوموں کی زد سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ تم مل کر کام کرو۔قرآن مجید پر تمام قومیں تمدنی ، تاریخی ،طبعی ، علمی ، عقلی غرض کہ ہر طرح کے اعتراض کر رہی ہیں اور چاہتے ہیں کہ قرآن مجید کی تعلیم کو نہ پھیلنے دیں۔پس تمہیں چاہیے کہ ان کا زور توڑنے کے لئے اپنے میں علمی قوت پیدا کرو اور اتفاق سے رہو۔وحد ت کے لئے ایک اختلاف کی بھی ضرورت ہے۔دیکھو اگر رسے کے کھیل میں دوسری طرف مخالف زور لگانے والا کوئی نہ ہو تو یہ کھیل ہو ہی نہیں سکتا۔اسی طرح ( حبل اللہ ) قرآن مجید کے مقابل میں زور لگانے والے لوگ بھی ضرور ہونے چاہئیں تھے۔پر اب ضرور ہے کہ تم اتفاق سے یک دل اور یک جان ہو کر زور لگائو تا ایسا نہ ہو کہ فریق مخالف فتح پائے۔(البدر جلد ۷ نمبر ۳۶ مورخہ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۵) قیام رمضان امیر المومنین مولوی نور الدین صاحب سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس بارے میں عبدالرحمن بن عبد القاری کے اثر سے کوئی صحیح نہیں۔یہ وہی روایت ہے جس میں حضرت عمرؓ نے فرمایا۔وَالَّتِیْ تَنَا مُوْنَ عَنْہَا اَفْضَلُ مِنَ الَّتِیْ تَقُوْمُوْنَ۔یعنی اس نماز کا پچھلی رات پڑھنا افضل ہے۔(ماخوذ از مضمون ’’ماہ صیام‘‘ البدر جلد ۷ نمبر ۳۶ مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۸)