ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 255
کفر نہیں ہو سکتا۔(۱۰)یہ تو خیال بڑا ہی احمقانہ اور مجنونانہ ہے کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے اور جو دلیل ہے وہ پاگلوں کی سی دلیل ہے ہم ایسے آدمی کو مفتری نہ کہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض آدمی افتراء نہیں کرتے مگر بعض حرکات جنون کے باعث کر تے ہیں۔(۱۱)ڈاکٹر کی رائے بیماری میں صحیح معلوم ہوتی ہے۔(۱۲)فساد کرنا اچھا نہیں ہوتا۔(۱۳) آپ لوگ بہت استغفار کریں اللہ تعالیٰ انجام بخیر کرے۔پھر آپ بہت استغفار کریں تاکہ نتیجہ نیک ہو۔فساد اور شور ہرگز نہ ڈالیں۔والسلام حسب الارشاد (حضرت خلیفۃ المسیح) (البدر جلد ۹ نمبر ۵۱ و ۵۲ مورخہ ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵) اعلان عام از جانب حضرت خلیفۃ المسیح سلمہ اللہ تعالیٰ حضرت سلّمہ ربّہ نے عاجز کو ارشاد فرمایا ہے کہ چونکہ آپ کی طبیعت اکثر علیل رہتی ہے اور بعض دفعہ بیماری بہت بڑھ جاتی ہے اور انسان کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اس واسطے حضور کی طرف سے اخبار میں اعلان کیا جاوے کہ اگر کسی کا کوئی کچھ روپیہ حضور کے پاس امانت ہو یا قرضہ ہو یا کسی اور وجہ سے دیا ہو یا کسی مریض نے آپ کو کچھ معالجہ کے واسطے دیا ہو اور اس کے خیال میں اس کا حق اسے نہ ملا ہو۔غرض ہر ایک ایسا شخص جو آپ سے کچھ واجب الا دا یقین کرتا ہے اُسے چاہیے کہ مطالبہ کرلے اور اپنا حق وصول کرلے۔فرمایا۔ایسے مطالبات کا ادا کرنا اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے واسطے بہت آسان ہے خدا نے ہمارے لئے سب سامان مہیا کر دئیے ہیں۔مکرر آنکہ حضرت صاحب سلّمہ الکریم کسی خطرناک مرض میں مبتلا نہیں ہیں گاہے گاہے اسہال وغیرہ کی تکلیف ہوتی ہے۔ہر وقت صبح و شام درس قرآن شریف دیتے ہیں اور دن بھر بیماروں کے دیکھنے میں اور طلباء کو سبق دینے میں اور امور خلافت کے طے کرنے میں گزارتے ہیں آپ نے احتیاطاً یہ اعلان دیا ہے۔جو صاحب یہ اعلان پڑھیں وہ دوسروں کو بھی سنا دیں۔(البدر جلد ۱۰ نمبر ۱و۲ مورخہ۳، ۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ۲)