ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 253 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 253

تھا۔کوئی ردکرے یا نہ مانے یا منافق کہے اس کا معاملہ حوالہ بخدا۔نور الدین بقلم خود ۲۲؍اکتوبر ۱۹۱۰ء (البدر جلد۹ نمبر ۵۱،۵۲ مورخہ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ۱۰) ایک مسئلہ کا حل عید سے پہلے دوکان جائز سوال۔جناب حکمت پناہ خدا بین نور الدین خلیفۃ المسیح دام برکاتہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ احقر نے دن عید کے قریب ۶ بجے صبح کے قبل از نماز عیدالفطر ایک شریف مسکین مفلس سید امیر علی نامی کو دن عید کی خوشی میں آٹے دال کی دکان کھلوا دی۔اس فعل پر برادر مرزا حسام الدین احمد نے جو بفضل الٰہی احمدی ہیں اعتراض کیا اور کہا کہ قبل از نماز ایسا کرنا حرام یا حرام سے کم درجہ کا ہے اور کہا کہ کیاخوب ہوتا جو بعد نماز کے اس دکان مذکور العنوان کی بنیاد قائم کی جاتی۔احقر نے ان کو جواب دیا کہ قبل از نماز ایسا فعل کرنا حرام نہیں۔البتہ وہ بیع اور وہ دکان کہ جو نماز کے ادا کرنے سے روک دے حرام ہو گی۔غرض آں برادر نے میرے خیال کو تسلیم کیا اور فتویٰ چاہا ہے۔لہٰذا حضور پُرنور سے امید وار ہوں کہ ہمارے نبی سید المرسلین محمد مصطفی ﷺ نے کیا حکم نافذ فرمایا ہے اوریہ جو فعل اس احقر نے کیا شرعاً جائز ہے یا نہیں۔والسلام آپ کا خادم گنہگار کبیر الدین احمد (احمدی) سیکرٹری انجمن احمدیہ لکھنؤ