ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 252
موصوف کی گفتگو ایک شخص کے ساتھ اس معاملہ میں ہوئی تھی تو انہوں نے جو جواب دیا وہ انہوں نے حضرت کی خدمت میں لکھ کر دریافت کیا کہ آیا میرا جواب اس میں درست ہے یا نہیں۔حضرت صاحب نے ان کے جواب کے ساتھ اتفاق کیا ہے اور اسی کو زیادہ وضاحت کے ساتھ اپنی قلم مبارک سے لکھ کر روانہ کیا ہے جودرج ذیل ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح کا جواب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمَ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وَآلِہٖ مَعَ التَّسْلِیْمِ امّا بعد فالسّلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ۔دل چیر کر دیکھنا یاد کھانا انسانی طاقت سے باہر ہے۔قسم پر کوئی اعتبار کرے تو وَاللّٰہِ الْعَظِیْمکے برابر کوئی قسم مجھے نظر نہیں آتی۔نہ آپ میرے ساتھ میری موت کے بعد ہوں گے نہ کوئی اور میرے ساتھ سوائے میرے ایمان و اعمال کے ہو گا۔پس یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے والا ہے۔وَاللّٰہُ الْعَظِیْم۔وَاللّٰہُ الَّذِیْ بِـاِذْنِہٖ تَقُوْمُ السَّمَآئُ وَالْاَ رْضُ۔میں مرزا صاحب کو مجدد اس صدی کا یقین کرتا ہوں میں ان کو راستباز مانتا ہوں۔حضرت محمدرسول اللہ النبی العربی المکی المدنی خاتم النبیین ؐ کا غلام اور اس کی شریعت کا بدل خادم مانتا ہوں اور مرزا خود اپنے آپ کو جان نثارِ غلام نبی عربی محمد ؐ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کا مانتے تھے۔نبی کے معنے لغوی پیش از وقت اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر خبر دینے والا ہم لوگ یقین کرتے ہیں نہ شریعت لانے والا۔مرزا صاحب اور میں خود جو شخص ایک نقطہ بھی قرآن شریف کا اور شریعت محمد رسول اللہ ﷺ کا نہ مانے اُسے کافر اورلعنتی اعتقاد کرتا ہوں۔یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرے نزدیک مرزا غلام احمد