ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 246 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 246

کی توحید کا جوش۔نبی کریم ﷺ کے آگے قوم نے خود کئی حسین عورتیں پیش کیں۔مگر آپ نے خدا کے مقابلہ میں ان کی پروانہ کی۔پھر صرف بھائیوں پر نہیں بلکہ سارے عرب پر غالب آئے اور ان کو معاف کردیا۔شاعر ونقاش فرمایا۔جو کام مصور ونقاش قلم سے لیتا ہے شاعر الفاظ میں اس کی تصویر کھینچتا ہے۔باپ بیٹے میں فرق فرمایا۔یوسف اور یعقوب میں اس بات سے ظاہر ہے کہ یوسف نے ( یوسف : ۹۳)کہہ دیا۔مگر باپ کہتا ہے( یوسف : ۹۹) یہ خدا کے حکم کے بغیر دعا بھی نہیں کرتے۔نبی کریم ﷺ کو ہرگز حکومت کی خواہش نہ تھی۔فرماتے ہیں اے ابوذر میں تیرے لئے وہی چاہتا ہوں جو اپنے لئے۔میرے دل میں کبھی دو آدمیوں پر بھی حکومت کرنے کی خواہش ہرگز پیدا نہیں ہوئی۔امر بالمعروف فرمایا۔مسلمانوں پر ادبار اسی وقت سے آیا ہے جب سے انہوں نے امر بالمعروف نہی عن المنکر چھوڑ دیا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ملانوں کا کام ہے اور ہم کسی کو امر بالمعروف کریں تو ہماری پوزیشن میں فرق آتا ہے۔حالانکہ یہ ایک عظیم الشان کا م ہے کہ سب سے پہلے خدا تعالیٰ نے اسے کیا۔قرآن مجید پڑھ کے دیکھ لو امر بالمعروف نہی عن المنکر ہی ہے۔اور امت محمدیہ کا تو فرض منصبی ہی یہی ہے چنانچہ فرماتا ہے (اٰل عمران: ۱۱۱)۔(۲) پھر جو آمر بالمعروف ہو وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے جب دوسروں کو نصیحت کرے گا اسے شرم آئے گی کہ میں دوسروں کو کہتا ہوں خود نہیں کرتا۔(۳) اَلدَّالُ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ (ترمذی کتاب العلم۔باب الدال علی الخیر کفاعلہٖ) اس کے کہنے سے جو کوئی نیک کام کرے گا اس کام کا ثواب اسے بھی ملے گا۔(۱۰؍اکتوبر) (البدر جلد ۹ نمبر ۴۸و ۴۹ مورخہ ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۰، ۱۱)