ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 220 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 220

واسطے گئے ہوئے ہیں چنانچہ ہم خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر اسباب رکھ کر شیخ صاحب موصوف کی کوٹھی پر پہنچے اور حضرت امام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔حکیم محمد عمر صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ دیکھو آپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ضرور پہنچ جائیں گے پھر کیا نتیجہ ہوا۔حکیم صاحب نے عرض کی۔پرانی عادتیں ہیں۔کوشش تو کر رہا ہوں کہ ایسے کلمات منہ سے نہ نکلیں اور بہت رکا رہتا ہوں مگر پھر بھی کسی وقت کوئی لفظ نکل جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ تنبیہہ بھی ہو جاتی ہے۔مومن کسی کا محتاج نہیں شیخ صاحب موصوف کے مکان پر ہی نماز ظہر پڑھی گئی اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح والمہدی شیخ صاحب کی درخواست پر ان کی دوکان میں تشریف لے گئے اور سب کمروں میں اپنا قدم مبارک ڈالا جو کہ دوکان کے واسطے موجب افتخار و برکات ہو گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔فرمایا۔مومن کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔فرمایا۔حضرت سید احمد صاحب جب حج کے واسطے بیت اللہ کو جاتے ہوئے جہاز میں سوار تھے تو ایک دفعہ جہاز میں نہایت سخت طوفان آیا اور خوفناک تلاطم ہوا۔شیخ عبدالقیوم صاحب اس وقت چھوٹے تھے اور آپ کی گودی میں بیٹھے تھے۔وہ ذکر کرتے ہیں کہ سید صاحب موصوف نے اس طوفان شدید کے وقت ایک اونگھ کے بعد فرمایا۔’’ نہیں ‘‘ دریافت کیا گیا کہ کس بات پر آپ نے ایسا لفظ بولا۔فرمانے لگے کہ سمندر اس وقت میرے سامنے آیا اور اس نے کہا کہ میں اس وقت سخت تلاطم میں ہوں اور یہ طوفان نہایت ہی خوفناک ہے اگر آپ کچھ حکم کریںتو میں بجا لائوں۔میں نے اُسے جواب دیا کہ مجھے تمہاری طرف کوئی حاجت نہیں۔تھوڑی دیر کے بعد آپ نے پھر فرمایا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سمندر پھر آپ کے سامنے آیا اور اس نے خبر دی کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ سید صاحب کے کسی رفیق کی قبر تجھ میں نہیں ہے اور اس رعب میں میں دب گیا ہوں۔چنانچہ