ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 214 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 214

کے چارہ نہیں، یا تو اس اعتراض کا ذکر ہی نہ کیا جاوے یا الزامی جواب دیا جاوے کیونکہ تحقیقی جواب مشکل ہے۔فرمایا۔جو بات آپ نہیں مانتے یا اس کے ماننے میں شرح صدر نہیں وہ دوسروں کو ماننے پر مجبور کرنا ایک قسم کا ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ ( یہ بات منجملہ ان باتوں کے ہے جن سے حضرت صاحب پر میرا عقیدہ بڑھتا گیا) میں نے کہا اللہ! قربان جائوں مرزاکے۔یہ شخص وہی بات کہتا ہے جس کا دل میں پورا یقین رکھتا ہے۔پھر مجھے فرمایا کہ جو ایسی باتیں ہوں اس کو خوشخط لکھ کر دیوار پر لٹکا دیں اور پیش نظر رکھیں اور دعا میں لگے رہیں انشاء اللہ وہ مشکل مسئلہ (حل) ہو جاوے گا۔میں نے دل پر ہی ایسی باتوں کو لکھ لیا پھر خدا کے فضل سے حل ہو گئیں۔چنانچہ محکم ومتشابہ کے معنے بھی مجھ پر خوب کھلے کہ متکلم کی کلام کا کچھ نہ کچھ حصہ ہر طبقہ کے لوگوں کی سمجھ میں آ جاتا ہے اور کچھ حصے ایسے ہوتے ہیں جن کے معنے نہیں کھلتے یا اس کی کئی وجوہ ہوتی ہیں۔پس محکم وہ ہے جو سمجھ لیا اور متشابہ وہ جو ابھی سمجھ میں نہیں آیا ( ہر انسان کا محکم و متشابہ الگ الگ ہی ہے) متشابہ کے معنے کے لئے یہ طریق ہے کہ محکم کے مطابق معنے کرو۔دعا کرتے رہو خشیت الٰہی اختیار کرو۔حضرت صاحب نے دوسرا مجاہدہ مجھے یہ بتایا کہ آریوں کے مقابلہ میں کتاب لکھو۔میں نے ان مجاہدات سے بہت نفع اُٹھایا او ران برکات سے حصہ لیا جو مامور من اللہ سے مخصوص ہیں۔مجھے ایک جماعت دی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جوتا کیسا ہو؟ اہلیہ صاحبہ دانش کے دریافت کرنے پر کہ عورتوں کے لئے کھڑے جوتے کا پہننا جائز ہے یا نہیں حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ اسلام نے عورتوں یا مردوں کے واسطے کوئی جوتا مقرر نہیں کیا کہ کس قسم کا ہو۔یہ امر ملکی رواج اور ضرورت پر منحصر ہے۔(البدر جلد ۹ نمبر ۳۲و ۳۳ مورخہ ۹ ؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ۱، ۲)