ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 203 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 203

کفارہ کے مضمون کے متعلق رائے حضرت خلیفۃ المسیح والمہدی نے اس مضمون کو پڑھ کر فرمایا۔جو مضمون محض اللہ تعالیٰ کی رضا مندی پر مبنی ہو اس کی قبولیت کے لئے الٰہی رضامندی سے بڑھ کر کیا تدبیر ہوسکتی ہے۔شریعت سے واضح ہے کہ جس کام کے لئے ریاء و سمعت اور طلب دنیا اصل غرض نہیں ہوتی اور وہ کام اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کوبرو مند فرماتا ہے۔ہاں  (الصف : ۱۵) کے امتثال پر اتنا کہہ دینا موجب ثواب سمجھتا ہوں کہ یہ کفارہ کا مضمون انشاء اللہ تعالیٰ بہتوں کے لئے ایمانی ترقی کا موجب ہوگا۔نورالدین ۲۴؍ مارچ ۱۹۱۰ء (البدر جلد۹ نمبر۲۳ مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۵ ) نبی کریم ﷺ کی تعریف میں حضرت مرزا صاحب کیا فرماتے ہیں ایک سائل کے خط کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح والمہدی نصرہ اللہ العزیز نے لکھا۔لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالرَّحْمَۃُ وَالسَّلَامُ وَالْـبَرَکَاتُ عَلٰی مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْن۔آمِیْن۔اَمَّا بَعْد ہر ایک کلام کے لئے ضرور ہے کہ مصنف کی کلام کو ملاحظہ کیا جاوے اگر اعتراض یا فہم مقصود ہواسلام پر اعتراض کرنے ہوں تمام مسلمانوں کی کتابیں لے کر اعتراض مناسب ہیں بلکہ اس معاملہ میں قرآن کریم اور احادیث صحیح پر نظر رہے۔جس کلام پر اعتراض ہے وہ ایک معمولی مضمون نگار ہے وہ مضمون بسبب اپنے کمزور ہونے کے روک دیا گیا۔صرف نمبر ۱ طبع ہو کر بند ہو گیا۔مگر حضرت مرزا صاحب کے کرامات اسی۸۰ کتب میں آپ کی تصنیف میں موجود ہیں۔ان میں اگر کوئی مشابہ کلمہ ہے تو اپنے محکم کلمات بحمد اللہ موجود ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔