ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 19
ابو الحسن الشاذلی کو ائمہ تصوف۔اس لئے ان کو مکرم معظم واجب التعظیم اعتقاد کرتے ہیں کتاب و سنت پر ان کا عمل ہے۔اگر بتصریح وہاں مسئلہ نہ ملے تو فقہ حنفیہ پر اس ملک میں عمل کر لیتے ہیں۔اور اس لئے ہی سفر میں گیارہ رکعت فرض اور حضر میں سترہ رکعت فرض اور تین رکعت وتر کے علاوہ بیس رکعت رواتب اور بعض چالیس رکعت تک پڑھتے ہیں۔ہر رکعت میں الحمد اور کچھ حصہ قرآن کریم کا اور رکوع و سجود میں تسبیح و تحمید اور تشہد میں التحیات و صلوٰۃ وسلام و دعا پڑھتے ہیں۔تمام رمضان شریف کے روزے رکھتے ہیں۔چاندی میں ۵۲ تولہ چاندی پر چالیسواں حصہ اور ۷۔تولہ سونے پر ۲ماشہ زکوٰۃ اور بارانی زمین پر عشر اور نہری و چاہی زمین پر بیسواں حصہ زکوٰۃ دیتے ہیں اور حج بیت اللہ کرتے ہیں۔فضائل میں ترقی اور رذائل سے بچنے میں لگے رہتے ہیں۔مرزا ؎ درین رہ گر کُشندم و دَر بسوزند نتابم رُوز ایوانِ محمدؐ پر ہر ایک کا عمل ہے بایں ہمہ۔لوگ اور آپ ہم پر کیوں خفا ہیں ؟ ۱۔اس لئے کہ مرزا نے دعویٰ مکالمہ الٰہیہ کا کیا مگراس دعویٰ کی بنا اس پر تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے صفات میں اَلاٰن کَمَا کَان ہے۔پس اگر وہ پہلے کسی سے بولتا اور کلام کرتا تھا تو اب وہ کیوں نہیں بولتا۔اور(الفاتحہ:۶،۷) میں دعا ہے کہ الٰہی انبیاء، صدیقوں، شہداء اور صلحاء کی راہ عطا فرما۔اور ان راہوں میں ایک راہ مکالمہ کی بھی ہے۔پس اگر ہم مکالمہ کے مدعی ہیں تو کیا کفر کیا ؟ بنی اسرائیل کو اس لئے عبادت عِجَل۔۔۔۔۔پر ملامت ہوئی(الاعراف:۱۴۹)کہ ان کا معبود ان سے بات نہیں کرتا اور ان کو ہدایت نہیں فرماتا۔پس اس وقت مسلمان کیوں مکالمات الٰہیہ سے انکار کرتے ہیں۔۲۔دعویٰ امامت و تجدید دین۔اس کی بناء مکالمات اور حدیث عَلٰی رَأْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ