ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 195 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 195

میں ہمیشہ خوش رہتا ہوں ۲۳؍فروری ۱۹۱۰ء کو مجھے حضرت کی صحبت میں بیٹھنے کی سعادت حاصل تھی آپ کو مطالعہ کتب کا جو شوق ہے وہ ظاہر امر ہے۔کسی تاجر کتب کو ایک کتاب کے متعلق لکھا تھا کہ بھیج دو، بعد دیکھنے کے اگر میں نے اسے پسند کیا تو قیمت بھیج دوں گا وَاِلاَّ واپس اور ہر دو طرف کا محصول میں دوں گا۔اس نے جواب دیا کہ ایسا نہیں کر سکتے۔فرمایا۔ہم اس جواب سے خوش ہوئے کیونکہ یہ معاملہ کی بات ہے۔وہ ہم سے ناواقف ہے ہمار ے حالات سے بے خبر ! اور اصل تو یہ ہے کہ میں تو سدا ہی خوش رہتا ہوں کیونکہ مومن لَا یَحْزَنُوْنَ کے نیچے ہے۔کوئی مریض میری تشخیص کو تسلیم نہیں کرتا تو مجھے خوشی ہوتی ہے اس لئے کہ میں اس کی ذمہ داری سے بچ جاتا ہوں۔کوئی بیرونی مریض رخصت چاہتا ہے تو فوراً اسے رخصت کر دیتا ہوں اور خدا کا فضل سمجھتا ہوں کہ اس نے ذمہ داری سے نجات دی۔غرض ہر حال میں مجھے خوشی ہی رہتی ہے اور یہ اس کا فضل ہے۔اپنی سچائی کی بصیرت میں نے ایک رقعہ آپ کو دکھایا جوالحکم میںطبع تھا اس میں راقم نے ہمارے سکول کی مثال عیسائیوں کے مدرسے سے دی۔اس پرآپ کی مذہبی حمیت اور حرارت نے خاص رنگ دکھایا۔بڑے جوش سے فرمایا کہ کیا ہم اپنے سکول کے متعلق یہ سن سکتے ہیں ؟ ہم خدا کے فضل سے بے ایمان نہیں لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتے یہی حق ہے جو ہم نے قبول کیا ہے ایک آن کے لئے بھی کفر یقین کر کے کوئی اسے اختیار نہیں کرسکتا۔ہم نے دنیا کی ملامتیں، کفر نامے اور قتل کے فتوے اپنے حق میں سنے اور ان کی پرواہ نہیں کی۔کیا دنیا کی ان ساری تکلیفوں کو سامنے رکھ کر اور برداشت کرتے ہو ئے بھی ہم اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہرگز نہیں۔پھر ہم (التوبۃ:۱۷)کیونکر بن سکتے ہیں؟ خدا نے ہمیں حق دکھایا جو ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں جو چاہے