ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 17 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 17

رہوں گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ۔۳ بار۔رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَا عْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔اے میرے ربّ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں کہ میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔آمین۔اس کے بعد آپ معہ حاضرین مجلس بیعت کنندہ اور اس کے متعلقین کے لئے دعا کرتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح والمہدی مذکورہ بالاالفاظ کے ساتھ یہ الفاظ بڑھاتے ہیں۔آج میں نور الدین کے ہاتھ پر تمام اُن شرائط کے ساتھ بیعت کرتا ہوں جن شرائط سے مسیح موعود و مہدی معہود بیعت لیا کرتے تھے اور نیز اقرار کرتا ہوں کہ خصوصیت سے قرآن وسنت و احادیث صحیحہ کے پڑھنے سننے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا اور اشاعت اسلام میں جان و مال سے بقدر وسعت و طاقت کمربستہ رہوں گا اور انتظام زکوٰۃ بہت احتیاط سے کروں گااور باہمی اخوان میں رشتہ اور محبت کو قائم رکھنے اور قائم کرنے میں سعی کرو ں گا۔(البدر جلد ۷ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۷ ؍ ستمبر ۱۹۰۸ صفحہ ۱) ایڈیٹر صاحب ’’البیان ‘‘کے نام ایک خط رسالہ البیا ن کے ایڈیٹر نے ماہ جمادی الاول ۱۳۲۶ھ کے رسالہ میں پیغمبروں کی موت کی سرخی کی ذیل میں حضرت اقدس کی وفات کا ذکرکرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمارا یہ زمانہ نبوت کا زمانہ نہیں۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح نے ان کو ایک خط لکھا ہے جو فائدہ عام کے واسطے درج ذیل کیا جاتا ہے۔(ایڈیٹر بدر) جناب من ! ہمارا مذہب کیا ہے؟ مختصر اً عرض ہے۔اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔۱۔اللہ تعالیٰ تمام صفات کاملہ سے موصوف اور ہر قسم کے عیب و نقص سے منزہ ہے۔اپنی ذات میں یکتا اور صفات میں بے ہمتا اپنے افعال میں لَیْسَ کَمِثْل اور اپنے تمام عبادات میں وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ۔