ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 165 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 165

کر لے تو گو وہ صلوٰۃ و صوم و تہجد کا تارک ہو ہر ایک قسم کے طمع، حسد، کسل کا مرتکب ہو اولاد سے متمتع ہوگا۔اسی طرح برادری میں عزت واکرام اور ملک کے اقوام میں اعزاز و احترام اور حکام کے حضور قابلِ انعام وہی ہے جو ان قواعد واحکام کی پیروی کرے جن سے یہ مرادیں حاصل ہو سکتی ہیں۔مکرم من ! ہزاروں امور قومی سلطنت، قومی حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں جب تک وہ نہ ہو ہرگز ہرگز صوم و صلوٰۃ سے پورے نہیں ہو سکتے۔مثلاً …چوری کی سزا، زانی کی سزا، ڈاکہ مارنے والے، مرتد کی سزا وغیرہ یہ امور سلطنت کے ساتھ وابستہ ہیں مثلاً ایک نمازی کا ہاتھ کہنی تک کٹ گیا تو اب کیا وضو کے وقت اس کا ہاتھ جو کٹ گیا ہے دھونا ضروری ہے؟ ہرگز نہیں۔(البقرۃ :۲۸۷)۔تعزیری احکام کے ہم ذمہ وار نہیں ہو سکتے قرآن شریف میں اس کی نظیر آپ دیکھیں۔حضرت یوسفؑ نبی ہیں ان کی اقتدا بھی ہمیں کرنا ہے۔ان کے بیان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(یوسف :۷۷) یہاں صرف ذکر ہے کہ یوسف علیہ السلام قانون سلطنت فراعنہ مصر کے ماتحت تھے جناب یوسف علیہ السلام اس قانون کی خلاف ورزی نہ کر سکتے تھے اور نہ کرتے تھےکا فقرہ قابلِ توجہ ہے۔پس کیسا ظاہر ہے کہ ایک مسلمان پولیس مین کو کس طرح پابندی قوانین گورنمنٹ کی ضروری ہے۔عام اہل اسلام عدم سلطنت کے وقت احکام سلطنت اسلام کے ہرگز ذمہ وار نہیں یہ تکلیف مالا یطاق ہے۔ہاں سلطنت اسلام کے ہوتے وقت اگر حکومت قرآن شریف واحادیث صحیحہ یا فتویٔ ائمہ کے خلاف کرے تو اس کے لئے وہی احکام ہیں جو سلطان ترک اور خلیفہ عباسیہ اور امیر ہسپانیہ کے لئے ترک حج اور ایک مولوی صاحب کے ترک زکوٰۃ اور عامۃ اہل اسلام خصوصاًفقر اہل تکیہ کے لئے ترک صوم صلوٰۃ یا عام نوجوانانِ گورنمنٹ گریجوایٹ کی بیباکی کے احکام ہیں بلکہ یوں کہیے کہ(النِّسآء :۹۴) اور قَتْلُ الْمُؤْمِنِیْنَ کُفْرٌ کی نص کے بعد